حکمت (289) میں امام علی (علیہ السلام) اپنے ایک دینی بھائی کا ذکر کرتے ہیں، جو ان کی نظر میں باعزت تھا کیونکہ اس نے دنیا کی حقارت کو سمجھا تھا۔ یہ حکمت ہمیں بتاتی ہے کہ حقیقی عزت دنیاوی چیزوں میں نہیں بلکہ انسان کی روحانی حالت اور اس کے اخلاق میں ہے۔ یہ دینی بھائی دنیا کی عیش و عشرت کی خواہش نہیں کرتا تھا اور جو چیزیں اس کے پاس تھیں، ان کا بے جا استعمال نہیں کرتا تھا۔ یہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ انسان کو اپنی ضروریات کو سمجھنا اور ان سے مطمئن رہنا چاہیے۔
امام علی (علیہ السلام) اس بھائی کی خاموشی اور سننے کی عادت کو بھی سراہتے ہیں۔ وہ بولنے سے زیادہ سننے کو ترجیح دیتا تھا، جو کہ ایک عظیم صفت ہے۔ اس کی یہ خاموشی اس کی قوت کا نشان ہے، اور جب وہ بولتا تو اس کی باتیں فیصلہ کن ہوتی تھیں۔ اس کا یہ انداز ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ انسان کو اپنے الفاظ کا انتخاب بہت سوچ سمجھ کر کرنا چاہیے اور دوسروں کی باتوں کو غور سے سننا چاہیے۔
امام (علیہ السلام) اس بھائی کی جہاد کے موقع پر بہادری کا بھی ذکر کرتے ہیں، جو ہمیں یہ درس دیتا ہے کہ کمزوری کے باوجود، انسان کو اپنے ایمان اور اصولوں کے لئے لڑنا چاہیے۔ یہ بات ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ ظاہری کمزوری کا مطلب یہ نہیں کہ انسان کی روحانی قوت کمزور ہے۔
اس حکمت کا ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ امام (علیہ السلام) اس بھائی کی عادتوں کو اپنانے کی تلقین کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر یہ تمام عادات حاصل کرنا ممکن نہ ہو تو تھوڑی سی چیز حاصل کرنا، بہت سی چیزوں کو چھوڑنے سے بہتر ہے۔ یہ نصیحت ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ ہمیں اپنی کوششوں میں مستقل رہنا چاہیے اور چھوٹی چھوٹی کامیابیوں کو بھی اہمیت دینی چاہیے۔
