حکمت (290) میں امام علی علیہ السلام فرماتے ہیں کہ اگر خداوند عالم نے اپنی معصیت کے عذاب سے نہ ڈرایا ہوتا، تب بھی اس کی نعمتوں پر شکر کا تقاضا یہ تھا کہ اس کی معصیت نہ کی جائے۔ یہ حکمت اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ انسان کو خدا کی نعمتوں کا شکر گزار ہونا چاہیے اور اس کی نافرمانی سے بچنا چاہیے۔
اس حکمت کا تاریخی پس منظر یہ ہے کہ یہ امام علی علیہ السلام کی تعلیمات کا حصہ ہے جو انہوں نے اپنے دور میں لوگوں کی تربیت اور اصلاح کے لیے بیان کیں۔ یہ ان کی حکمت عملی کا ایک حصہ ہے کہ لوگوں کو خدا کی رحمتوں کی اہمیت اور ان کے مقابلے میں معصیت کی ناپسندیدگی کا احساس دلایا جائے۔
اس حکمت کے اہم موضوعات میں شکرگزاری، خدا کی رحمت، اور معصیت سے بچنے کی ضرورت شامل ہیں۔ امام علی علیہ السلام یہ بتاتے ہیں کہ خدا کی نعمتوں کا شکر ادا کرنا صرف زبانی نہیں بلکہ عملی طور پر بھی ہونا چاہیے۔
اس حکمت میں ایک اہم جملہ یہ ہے کہ خدا کی نعمتوں کی قدر کرنا اور ان کی نافرمانی سے بچنا، انسانی فطرت کا حصہ ہونا چاہیے۔ اس کے ذریعے ہمیں یہ سکھایا جاتا ہے کہ خدا کی نعمتوں کی قدر کریں اور ان کے بدلے میں نافرمانی سے دور رہیں۔
اخلاقی اور روحانی سبق یہ ہے کہ انسان کو ہمیشہ خدا کی نعمتوں کا شکر گزار ہونا چاہیے اور اس کی نافرمانی سے بچنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ یہ ایک عملی نصیحت ہے کہ ہم اپنی زندگی میں خدا کی رحمتوں کا شکر ادا کریں اور ان کی نافرمانی سے بچیں۔
