یہ حکمت امام علی (علیہ السلام) کی ایک عظیم نصیحت ہے جو اشعث ابن قیس کو ان کے بیٹے کی وفات پر تعزیت دیتے ہوئے بیان کی گئی۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب اشعث اپنے بیٹے کی موت پر غمگین تھے۔ اس حکمت میں امام علی (ع) نے صبر کی اہمیت پر زور دیا ہے اور یہ بتایا ہے کہ انسانی رشتے اور جذبات کی شدت کے باوجود، اللہ کی رضا اور تقدیر کو قبول کرنا ضروری ہے۔
امام علی (ع) نے فرمایا کہ اگر اشعث اپنے بیٹے کی موت پر رنج محسوس کرتے ہیں تو یہ ایک قدرتی ردعمل ہے، کیونکہ خون کا رشتہ انسان کو اس غم کا حق دار بناتا ہے۔ لیکن اگر وہ صبر کریں تو اللہ کی طرف سے ہر مصیبت کا عوض ملتا ہے۔ یہ الفاظ ہمیں یہ سکھاتے ہیں کہ زندگی میں آنے والی مشکلات کو صبر کے ساتھ برداشت کرنا چاہیے، کیونکہ اللہ تعالٰی ان کا بدلہ دیتا ہے۔
امام علی (ع) نے مزید وضاحت کی کہ اگر اشعث صبر کرتے ہیں تو وہ اجر و ثواب کے حقدار ہوں گے، جبکہ اگر وہ بے صبری کا مظاہرہ کرتے ہیں تو ان پر گناہ کا بوجھ ہوگا۔ اس میں ایک اہم درس یہ ہے کہ تقدیر الہی کا انکار کرنے سے کچھ حاصل نہیں ہوتا، بلکہ صبر کرنے سے انسان کو روحانی فوائد حاصل ہوتے ہیں۔
یہ حکمت ہمیں یہ بھی یاد دلاتی ہے کہ بیٹے کی موت دراصل ایک امتحان اور آزمائش ہے، جو انسان کی صبر و استقامت کو جانچتا ہے۔ اگرچہ یہ غم ناک ہے، مگر اس کے پیچھے اللہ کی رحمت اور اجر پوشیدہ ہے۔ اس طرح، امام علی (ع) نے ہمیں یہ سکھایا کہ ہر مصیبت میں ایک موقع ہے، اور ہمیں ہمیشہ اللہ کی رضا کی تلاش کرنی چاہیے۔
