Nehjul Balagah Detailed Explanation Nehjul Balagah Detailed Explanation : 292

تفصیلی وضاحت — حکمت (292) : رسول اللہ صلی علیہ و آلہ وسلم کے دفن کے وقت قبر پر یہ الفاظ کہے۔ صبر عموماً اچھی چیز ہے سوائے آپ کے غم کے اور بیتابی و بے قراری عموماً بری چیز ہے سوائے آپ کی وفات کے اور بلاشبہ آپ کی موت کا صدمہ عظیم ہے، اور آپ سے پہلے اور آپ کے بعد آنے والی مصیبت سبک ہے۔ (292- قبر رسولؐ پر)

یہ حکمت امام علی علیہ السلام کی ایک عمیق بصیرت کا اظہار ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے وقت کہی گئی۔ یہ الفاظ اس وقت کہے گئے جب مسلمانوں کی جماعت اپنے نبی کے انتقال کے غم میں ڈوبی ہوئی تھی۔ اس تاریخی پس منظر میں، یہ بات واضح ہوتی ہے کہ امام علی علیہ السلام نے اس موقع پر صبر اور بے قراری کے بارے میں ایک اہم پیغام دیا۔

اس حکمت کی پہلی لائن میں کہا گیا ہے کہ "صبر عموماً اچھی چیز ہے سوائے آپ کے غم کے۔" یہ ایک عمیق حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کا صدمہ اتنا عظیم ہے کہ اس کے سامنے صبر بھی کمزور محسوس ہوتا ہے۔ یہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ بعض اوقات زندگی میں ایسے مواقع آتے ہیں جہاں صبر کی بھی کوئی حیثیت نہیں رہتی۔

دوسری لائن میں "بیتابی و بے قراری عموماً بری چیز ہے سوائے آپ کی وفات کے" کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بے قراری اور اضطراب عمومی طور پر منفی جذبات سمجھے جاتے ہیں، مگر جب کسی عظیم شخصیت کا انتقال ہوتا ہے تو یہ بے قراری فطری ہے۔ اس سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ انسانی جذبات کی نوعیت کو سمجھنا اور ان کا احترام کرنا ضروری ہے۔

آخری حصے میں امام علی علیہ السلام نے فرمایا کہ "بلاشبہ آپ کی موت کا صدمہ عظیم ہے، اور آپ سے پہلے اور آپ کے بعد آنے والی مصیبت سبک ہے۔" یہ الفاظ اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی موت کا دکھ اتنا بڑا ہے کہ اس کے مقابلے میں دیگر مصیبتیں معمولی لگتی ہیں۔ اس سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ بعض غم زندگی میں اتنے بڑے ہوتے ہیں کہ ان کا موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔

یہ حکمت ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ ہمیں اپنے جذبات کا اظہار کرنے کا حق ہے، خاص طور پر جب ہم کسی عظیم شخصیت کی وفات کا سامنا کر رہے ہوں۔ اس کے ساتھ ہی، ہمیں یہ بھی سیکھنا چاہیے کہ زندگی میں صبر اور بے قراری کے درمیان توازن کیسے قائم کیا جائے۔