Nehjul Balagah Detailed Explanation Nehjul Balagah Detailed Explanation : 300

تفصیلی وضاحت — حکمت (300) : امیرالمومنین علیہ السلام سے دریافت کیا گیا کہ خداوند عالم اس کثیر التعداد مخلوق کا حساب کیونکر لے گا؟ فرمایا جس طرح اس کی کثرت کے باوجود روزی انہیں پہنچاتا ہے۔ پوچھا وہ کیونکر حساب لے گا جب کہ مخلوق اسے دیکھے گی نہیں؟ فرمایا جس طرح انہیں روزی دیتا ہے اور وہ اسے دیکھتے نہیں۔ (300- حساب و کتاب)

حکمت 300 میں امیرالمومنین علیہ السلام کی تعلیمات کا ایک عمیق پہلو پیش کیا گیا ہے جو خداوند عالم کی قدرت اور اس کی حکمت پر روشنی ڈالتا ہے۔ اس حکمت کا پس منظر اس وقت کے حالات میں ہے جب لوگ خدا کی قدرت اور اس کی مخلوق کی کثرت کے بارے میں سوالات کرتے تھے۔ یہ سوالات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ انسان ہمیشہ خدا کی عظمت اور اس کی حکمت کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔

امیرالمومنین علیہ السلام نے فرمایا کہ جیسا کہ خداوند عالم اپنی کثیر مخلوق کو روزی دیتا ہے، اسی طرح وہ ان کا حساب بھی لے گا۔ یہ ایک اہم پیغام ہے کہ خدا کی رحمت اور اس کی قدرت کی وسعت ایسی ہے کہ وہ ہر ایک کی ضروریات کو پورا کرتا ہے، چاہے ان کی تعداد کتنی ہی کیوں نہ ہو۔

یہاں پر ایک اہم نقطہ یہ ہے کہ انسان کو خدا کی رحمت پر یقین رکھنا چاہیے۔ جیسا کہ روزی کی فراہمی میں خدا کی حکمت ہے، اسی طرح حساب کتاب میں بھی اس کی حکمت اور علم شامل ہے۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ خدا کی صفات میں کوئی تضاد نہیں ہے۔

امام علیہ السلام کا یہ بیان ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ خدا کو دیکھنے کی ضرورت نہیں ہے تاکہ ہم اس کی قدرت اور حکمت کو سمجھ سکیں۔ جیسے ہم روزی کو دیکھے بغیر اس پر یقین رکھتے ہیں، ویسے ہی ہمیں خدا کی موجودگی اور اس کے علم پر یقین رکھنا چاہیے۔

اس حکمت کے عملی پہلو یہ ہیں کہ ہمیں اپنی زندگی میں خدا کی نعمتوں کا شکر ادا کرنا چاہیے اور اس کے احکام کی پیروی کرنی چاہیے۔ اگر ہم خدا کی نعمتوں کا شکر ادا نہیں کرتے تو یہ ہماری بے اعتنائی ہوگی۔ یہ حکمت ہمیں یہ بھی یاد دلاتی ہے کہ ہر عمل کا حساب ہوگا، چاہے ہم خدا کو نہ بھی دیکھیں۔