حکمت (۳۰۱) میں امام علی (علیہ السلام) نے اشعث بن قیس سے بات کی ہے، جب وہ اپنے بیٹے کے انتقال پر غمگین تھے۔ یہ حکمت ہمیں یہ سمجھاتی ہے کہ انسانی رشتے، خاص طور پر والدین اور اولاد کے درمیان، ایک خاص اہمیت رکھتے ہیں۔ امام (ع) نے یہ واضح کیا کہ اگر انسان اپنے بیٹے کی موت پر غم کرے تو یہ ایک فطری عمل ہے، لیکن اس غم میں صبر کرنے کی تلقین بھی کی گئی ہے۔
اس حکمت میں امام (ع) نے یہ بھی فرمایا کہ اگر انسان صبر کرے تو اللہ تعالیٰ کی نظر میں ہر مصیبت کا اجر ہے۔ یہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ مشکلات اور آزمائشیں زندگی کا حصہ ہیں، اور ان کا سامنا کرتے وقت ہمیں صبر اور استقامت کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔
امام (ع) نے یہ بھی کہا کہ اگر انسان صبر کرے تو اللہ تعالیٰ کے فیصلے پر راضی رہنا بہتر ہے، کیونکہ یہ انسان کو اجر اور ثواب کی طرف لے جاتا ہے۔ یہ ایک روحانی سبق ہے کہ ہمیں اللہ کی رضا کے لیے صبر کرنا چاہیے، چاہے حالات کتنے بھی مشکل کیوں نہ ہوں۔
اس حکمت کا عملی پہلو یہ ہے کہ ہمیں اپنی زندگی میں آنے والی مشکلات کو اللہ کی طرف سے امتحان سمجھ کر صبر کرنا چاہیے۔ یہ ہمیں یہ درس دیتا ہے کہ ہر مصیبت کے پیچھے ایک حکمت ہوتی ہے، اور اس کا سامنا کرتے وقت ہمیں اللہ کی رحمت پر یقین رکھنا چاہیے۔
