حکمت (302) میں امام علی (علیہ السلام) نے دعا کی اہمیت پر زور دیا ہے، خاص طور پر اس وقت جب انسان سختی اور مصیبت میں مبتلا ہو۔ یہ حکمت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ انسان کی ضرورت دعا کی حالت میں بڑھ جاتی ہے، خاص طور پر جب وہ مشکلات کا سامنا کر رہا ہو۔ اس کے برعکس، جو شخص خیر و عافیت میں ہے، وہ بھی دعا کا محتاج ہے، مگر اس کی ضرورت کم محسوس ہوتی ہے۔
یہ حکمت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ انسان کو ہمیشہ دعا کی حالت میں رہنا چاہیے، چاہے وہ خوشیوں میں ہو یا مشکلات میں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کو اللہ کی رحمت اور مدد کی طلب ہمیشہ کرنی چاہیے، کیونکہ کوئی نہیں جانتا کہ کب مشکلات آ سکتی ہیں۔
اس حکمت میں ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ انسان کی حالت کبھی بھی مستقل نہیں ہوتی۔ جو شخص آج خوشحال ہے، وہ کل مشکلات میں مبتلا ہو سکتا ہے۔ اس لیے ہمیں اپنے دلوں میں دعا کی طلب کو ہمیشہ زندہ رکھنا چاہیے۔
امام علی (علیہ السلام) کی یہ حکمت ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ مشکلات کے وقت میں صبر کرنا اور دعا کرنا ایک مومن کی شان ہے۔ دعا نہ صرف مشکلات کا حل ہے، بلکہ یہ انسان کی روحانی حالت کو بھی بہتر بناتی ہے۔
