Nehjul Balagah Detailed Explanation Nehjul Balagah Detailed Explanation : 312

تفصیلی وضاحت — حکمت (312) : دل کبھی مائل ہوتے ہیں اور کبھی اچاٹ ہو جاتے ہیں۔ لہٰذا جب مائل ہوں، اس وقت انہیں مستحبات کی بجا آوری پر آمادہ کرو۔ اور جب اچاٹ ہوں تو واجبات پر اکتفا کرو۔ (312- دلوں کی حالت)

حکمت (312) میں امام علی (علیہ السلام) نے دل کی حالتوں کی تبدیلی کی طرف اشارہ کیا ہے۔ یہ حکمت ہمیں بتاتی ہے کہ انسانی دل کبھی ایک چیز کی طرف مائل ہوتا ہے اور کبھی دوسری طرف، یعنی کبھی خوشی اور کبھی اداسی کی حالت میں ہوتا ہے۔ یہ انسانی نفسیات کا ایک اہم پہلو ہے، جو بتاتا ہے کہ انسان کی روحانی حالت کس طرح اس کی عبادات اور اعمال پر اثر انداز ہوتی ہے۔

امام علی (علیہ السلام) اس حکمت میں یہ نصیحت کرتے ہیں کہ جب دل مائل ہو، یعنی جب انسان روحانی طور پر خوش ہو یا عبادت کی طرف راغب ہو، تو اس وقت اسے مستحبات یعنی نفل عبادات کی طرف متوجہ کرنا چاہیے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب انسان کی روحانی کیفیت اچھی ہو، تو اسے زیادہ سے زیادہ نفل عبادات کرنی چاہئیں تاکہ وہ اپنے ایمان کو مزید مضبوط کر سکے۔

دوسری طرف، جب دل اچاٹ ہو، یعنی انسان کی روحانی حالت کمزور ہو یا عبادت میں دل نہ لگے، تو اس وقت واجبات یعنی فرض عبادات پر اکتفا کرنا چاہیے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ انسان اپنی عبادات کو ترک نہ کرے، چاہے اس کا دل ان میں مائل نہ ہو۔ یہ ایک عملی حکمت ہے جو ہمیں بتاتی ہے کہ ہمیں اپنی عبادات کو جاری رکھنا چاہیے، چاہے ہماری روحانی حالت کیسی بھی ہو۔

یہ حکمت ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ انسانی دل کی حالتوں کا دھیان رکھنا ضروری ہے۔ ہمیں اپنی روحانی حالت کو سمجھنا چاہیے اور اس کے مطابق اپنے اعمال کو ترتیب دینا چاہیے۔ یہ ایک طرح کی خود شناسی ہے جو انسان کو اپنی عبادات میں بہتر بنانے میں مدد دیتی ہے۔