حکمت (311) میں امام علی علیہ السلام کی ایک اہم گفتگو کا ذکر ہے جو بصرہ میں پیش آئی۔ اس موقع پر، امام نے انس بن مالک کو طلحہ اور زبیر کے پاس بھیجا تاکہ انہیں وہ اقوال یاد دلائے جائیں جو انہوں نے خود پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنے تھے۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب اسلامی معاشرے میں مختلف نظریات اور اختلافات جنم لے رہے تھے۔ امام علی علیہ السلام کی یہ کوشش دراصل ان لوگوں کو یاد دلانا تھی کہ وہ کس طرح پیغمبر کے ساتھ رہے اور ان کے اقوال کو بھولنے کی کوشش نہ کریں۔
اس حکمت میں ایک اہم موضوع جھوٹ اور اس کی سزا ہے۔ امام علی علیہ السلام نے انس بن مالک کو یہ کہا کہ اگر وہ جھوٹ بول رہے ہیں تو خداوند عالم انہیں ایک چمکدار داغ میں مبتلا کرے گا، جسے وہ اپنی عمامہ سے بھی نہیں چھپا سکیں گے۔ یہ بات ہمیں بتاتی ہے کہ جھوٹ بولنے کی سنگینی اور اس کے نتائج کتنے خطرناک ہو سکتے ہیں۔
اس حکمت کا ایک اور پہلو یہ ہے کہ امام علی علیہ السلام نے اپنے الفاظ کے ذریعے لوگوں کو یاد دلایا کہ اللہ تعالی ہر چیز کا حساب رکھتا ہے، چاہے وہ نظر آئے یا نہ آئے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کی قدرت اور علم ہر چیز پر محیط ہے، اور وہ اپنے بندوں کے اعمال کا حساب ضرور لے گا۔
اس حکمت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہمیں ہمیشہ سچائی کا راستہ اپنانا چاہیے اور اپنے اقوال اور اعمال میں صداقت کو مقدم رکھنا چاہیے۔ جھوٹ کی سزا کا خوف ہمیں سچ بولنے کی ترغیب دیتا ہے۔ اس کے علاوہ، ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ اللہ تعالی ہر چیز کو دیکھتا ہے اور اس کی قدرت سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے۔
