جب آپؑ کو محمد ابن ابی بکر (رحمہ اللہ) کے شہید ہونے کی خبر پہنچی تو آپؑ نے فرمایا: ہمیں ان کے مرنے کا اتنا ہی رنج و قلق ہے جتنی دشمنوں کو اس کی خوشی ہے۔ بلاشبہ ان کا ایک دشمن کم ہوا اور ہم نے ایک دوست کو کھو دیا۔
یہ حکمت اس وقت کی ہے جب امام علیؑ کو محمد ابن ابی بکر کی شہادت کی خبر ملی۔ محمد ابن ابی بکر، امام علیؑ کے وفادار ساتھی اور ان کے بیٹے کی طرح تھے۔ ان کی شہادت نے امامؑ کو گہرے دکھ میں مبتلا کر دیا، حالانکہ ان کے دشمن اس خبر پر خوش تھے۔
اس حکمت میں امامؑ نے دو اہم پہلوؤں کی نشاندہی کی ہے: ایک تو یہ کہ دوستوں کا کھونا کتنا بڑا نقصان ہے، اور دوسرا یہ کہ دشمنوں کی خوشی کا کوئی معنی نہیں ہوتا جب آپ کے پاس وفادار ساتھی موجود ہوں۔ یہ ایک عمیق انسانی جذبہ ہے جو ہر دور میں موجود رہتا ہے۔
اس کے ذریعے امامؑ نے ہمیں یہ سکھایا کہ ہمیں اپنے دوستوں کی قدر کرنی چاہیے اور ان کے نقصان پر رنجیدہ ہونا چاہیے۔ یہ نہ صرف ایک اخلاقی سبق ہے بلکہ روحانی لحاظ سے بھی ہمیں اپنے قریبی لوگوں کی اہمیت کا احساس دلانے والا ہے۔
عملی طور پر، اس حکمت کا پیغام یہ ہے کہ ہمیں اپنے تعلقات کو مضبوط بنانا چاہیے اور ان لوگوں کی قدر کرنی چاہیے جو ہمارے ساتھ ہیں۔ ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ زندگی کی مشکلات میں وفادار دوست ہی ہماری اصل طاقت ہوتے ہیں۔
