حکمت (326) میں امام علی (علیہ السلام) نے فرمایا ہے کہ وہ عمر جس کے بعد اللہ تعالیٰ بندے کے عذر کو قبول نہیں کرتا، ساٹھ برس کی ہے۔ یہ حکمت انسانی زندگی کی ایک اہم حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ اس کا تاریخی پس منظر یہ ہے کہ امام علی (علیہ السلام) نے یہ الفاظ اس وقت کہے جب اسلامی معاشرت میں افراد کی اخلاقی اور روحانی ذمہ داریوں پر زور دیا جا رہا تھا۔
اس حکمت کا مرکزی موضوع انسانی عمر اور اس کے استعمال کی اہمیت ہے۔ ساٹھ برس کی عمر کو اس لیے منتخب کیا گیا ہے کہ یہ وہ عمر ہے جس میں انسان کو اپنے اعمال کا جواب دینا ہوتا ہے۔ اس عمر کے بعد، اگر کوئی شخص اپنے گناہوں کے بارے میں عذر پیش کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو قبول نہیں کرتا۔ یہ ایک سخت مگر حقیقت پسندانہ پیغام ہے کہ انسان کو اپنی زندگی کے ہر لمحے کی قدر کرنی چاہیے۔
کئی اہم جملے اس حکمت میں موجود ہیں، جیسے "عذر کو قبول نہیں کرتا"۔ یہ جملہ ہمیں یہ سمجھاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور معافی کی ایک حد ہے، اور انسان کو اپنی زندگی میں جلدی سے جلدی نیک اعمال کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
اخلاقی اور روحانی سبق یہ ہے کہ انسان کو اپنی عمر کے قیمتی لمحات کو ضائع نہیں کرنا چاہیے۔ ہمیں اپنی زندگی کے ہر دن کو بہتر بنانے کی کوشش کرنی چاہیے، تاکہ ہم اپنے رب کے سامنے سرخرو ہو سکیں۔ عملی طور پر، یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہم اپنی زندگی کی منصوبہ بندی کریں اور اپنی نیکیوں میں اضافہ کریں، خاص طور پر اس عمر کے قریب پہنچنے سے پہلے۔
