حکمت (328) میں امام علی علیہ السلام نے ایک اہم حقیقت کی طرف اشارہ کیا ہے کہ خداوند عالم نے دولت مندوں کے مال میں فقیروں کا رزق مقرر کیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ فقیروں کی ضروریات کا خیال رکھنا اور ان کی مدد کرنا دولت مندوں کی ذمہ داری ہے۔ یہ حکمت اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ اگر کوئی فقیر بھوکا رہتا ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ دولت مندوں نے اپنی دولت کو اکٹھا کر لیا ہے۔
یہ حکمت ہمیں یہ بتاتی ہے کہ معاشرتی انصاف کا قیام ضروری ہے۔ دولت کی غیر منصفانہ تقسیم کے نتیجے میں فقراء کی حالت خراب ہو جاتی ہے۔ امام علی علیہ السلام کی یہ بات ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ہم سب کا ایک دوسرے کے ساتھ تعلق ہے اور ہمیں ایک دوسرے کی مدد کرنی چاہیے۔
اس حکمت میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان دولت مندوں سے حساب لے گا جو اپنی دولت کو فقراء کی ضروریات کے بجائے خود پر خرچ کرتے ہیں۔ یہ ایک روحانی سبق ہے کہ ہمیں اپنی دولت کا استعمال اس طرح کرنا چاہیے کہ وہ دوسروں کی بھلائی کے کام آئے۔
اس حکمت کا عملی پہلو یہ ہے کہ ہم معاشرتی ذمہ داریوں کو سمجھیں اور دولت مند افراد کو اپنی دولت کا کچھ حصہ فقراء کی مدد کے لئے مختص کرنے کی ترغیب دیں۔ یہ نہ صرف ایک اخلاقی فرض ہے بلکہ ایک روحانی عمل بھی ہے۔
