حکمت (338) : علم دو طرح کا ہوتا ہے، ایک وہ جو نفس میں بس جائے اور ایک وہ جو صرف سن لیا گیا ہو اور سنا سنایا فائدہ نہیں دیتا جب تک وہ دل میں راسخ نہ ہو۔
یہ حکمت امام علی علیہ السلام کی تعلیمات میں علم کی نوعیت کی وضاحت کرتی ہے۔ تاریخی طور پر، یہ دور اسلامی تاریخ کا ہے جب علم کی اہمیت کو بہت زیادہ سمجھا جا رہا تھا، اور لوگ علم کی مختلف اقسام اور اس کے اثرات کے بارے میں غور و فکر کر رہے تھے۔
امام علی علیہ السلام یہاں دو قسم کے علم کی وضاحت کرتے ہیں: ایک وہ علم جو انسان کے دل و دماغ میں رچ بس جائے، یعنی جو اس کی شخصیت کا حصہ بن جائے، اور دوسرا وہ علم جو صرف زبانی طور پر سنا گیا ہو۔ یہ بات ہمیں یہ سمجھاتی ہے کہ صرف الفاظ کو یاد کرنا یا کسی چیز کو سن لینا کافی نہیں ہے، بلکہ علم کو اپنے اندر جذب کرنا اور اس پر عمل کرنا زیادہ اہم ہے۔
اس حکمت میں ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ علم کا اثر تبھی ہوتا ہے جب وہ دل میں راسخ ہو جائے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ علم کو صرف سیکھنا ہی کافی نہیں ہے، بلکہ اس علم کو اپنی زندگی میں عملی طور پر شامل کرنا بھی ضروری ہے۔
اخلاقی اور روحانی اسباق میں یہ بات شامل ہے کہ ہمیں علم کی تلاش میں محنت کرنی چاہیے، اور اس علم کو اپنی زندگی میں نافذ کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ عملی علم ہی انسان کو صحیح راہ پر گامزن کر سکتا ہے۔
عملی طور پر، اس حکمت کا پیغام یہ ہے کہ علم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ اس کی عملی تطبیق پر بھی توجہ دینی چاہیے۔ ہمیں اپنے علم کو اپنی زندگی میں شامل کرنا چاہیے تاکہ ہم حقیقی معنوں میں علم کے فوائد حاصل کر سکیں۔
