حکمت (339) میں امام علی (علیہ السلام) نے ایک اہم حقیقت کی طرف اشارہ کیا ہے کہ انسان کی رائے کی درستگی کا تعلق اس کی کامیابی اور دولت سے ہے۔ اس حکمت کا پس منظر یہ ہے کہ امام علی (ع) نے اپنی زندگی میں بہت سے معاشرتی مسائل کا سامنا کیا، خاص طور پر غریبوں اور امیروں کے درمیان فرق۔ یہ بات اس وقت کی ہے جب عرب معاشرہ قبائلی نظام اور اقتصادی عدم مساوات کا شکار تھا۔
اس حکمت میں بنیادی موضوع یہ ہے کہ اگر کسی کی رائے صحیح ہے تو اس کی کامیابی اور دولت بھی اس کے ساتھ ہوگی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر انسان اپنی سوچ میں درست ہے تو وہ زندگی میں کامیاب ہو گا اور دولت بھی حاصل کرے گا۔ اگر یہ رائے درست نہیں ہے تو نہ صرف کامیابی بلکہ دولت بھی اس سے دور ہو جائے گی۔
اس حکمت کے کچھ اہم الفاظ میں 'اصابتِ رائے' کا ذکر ہے، جو کہ درست سوچ یا رائے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ یہ بات ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ صحیح رائے رکھنا اور اس پر عمل کرنا زندگی میں کامیابی کے لیے ضروری ہے۔
اخلاقی اور روحانی سبق یہ ہے کہ انسان کو اپنی سوچ کی درستگی پر توجہ دینی چاہیے۔ یہ صرف مادی دولت کی بات نہیں ہے بلکہ صحیح رائے رکھ کر انسان اپنے اور دوسروں کے لیے بھی بہتر زندگی گزار سکتا ہے۔ اس کے عملی نتائج میں یہ شامل ہے کہ انسان کو اپنے فیصلوں میں عقلی اور منطقی ہونا چاہیے، تاکہ وہ اپنی زندگی میں کامیاب ہو سکے۔
