Nehjul Balagah Detailed Explanation Nehjul Balagah Detailed Explanation : 35

تفصیلی وضاحت — حکمت (35) : جب شخص لوگوں کے لیے ایسی باتیں کہتے ہیں کہ جنہیں وہ جانتے نہیں۔ (35- مرنجان مرنج)

یہ حکمت امام علی علیہ السلام کی گہرائی اور بصیرت کو ظاہر کرتی ہے۔ یہ ایک ایسی حقیقت کی نشاندہی کرتی ہے کہ جب کوئی شخص دوسروں کے بارے میں ایسی باتیں کہتا ہے جو ان کے لیے ناگوار ہوتی ہیں، تو لوگ بھی اس کے بارے میں ایسی باتیں کرنے لگتے ہیں جن کا انہیں علم نہیں ہوتا۔ یہ ایک انسانی فطرت کا حصہ ہے کہ جب کوئی شخص کسی کو نقصان پہنچاتا ہے یا اس کی عزت کو مجروح کرتا ہے، تو اس کے نتیجے میں وہ شخص بھی اپنے دفاع میں کچھ ایسی باتیں کہہ سکتا ہے جو حقیقت پر مبنی نہیں ہوتیں۔

اس حکمت کا تاریخی سیاق و سباق یہ ہے کہ امام علی علیہ السلام نے یہ بات اس وقت کہی جب معاشرے میں بہت سی ایسی باتیں عام تھیں جو لوگوں کے لیے نقصان دہ تھیں۔ یہ ایک دور تھا جب جھوٹ، بہتان اور بے بنیاد افواہیں پھیلائی جا رہی تھیں۔ امام علی علیہ السلام نے اس حکمت کے ذریعے لوگوں کو یہ سکھایا کہ انہیں اپنی زبان کی حفاظت کرنی چاہیے اور دوسروں کے بارے میں بغیر تحقیق کے کوئی بات نہیں کرنی چاہیے۔

اس حکمت میں موجود اہم موضوعات میں سے ایک یہ ہے کہ زبان کی طاقت اور اس کے نتائج کو سمجھنا۔ جب ہم کسی کے بارے میں ایسی باتیں کرتے ہیں جو ان کے لیے ناگوار ہیں، تو یہ نہ صرف ان کی عزت کو متاثر کرتا ہے بلکہ ہمارے اپنے کردار کو بھی مشکوک بناتا ہے۔ اس طرح کی باتیں معاشرتی تعلقات میں دراڑ ڈال سکتی ہیں اور نفرت اور دوریوں کا سبب بن سکتی ہیں۔

اخلاقی اور روحانی سبق یہ ہے کہ ہمیں اپنے الفاظ کا انتخاب بہت سوچ سمجھ کر کرنا چاہیے۔ ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ ہر لفظ جو ہم بولتے ہیں، اس کے اثرات ہوتے ہیں۔ ہمیں دوسروں کے بارے میں بات کرتے وقت احتیاط برتنی چاہیے اور ہمیشہ سچائی اور انصاف کی بنیاد پر بات کرنی چاہیے۔ اس طرح ہم نہ صرف اپنی عزت کو محفوظ رکھ سکتے ہیں بلکہ دوسروں کے دلوں میں بھی عزت حاصل کر سکتے ہیں۔