یہ حکمت امام علی علیہ السلام کی بصیرت اور حکمت کی عکاسی کرتی ہے۔ یہ قول ہمیں یہ سمجھاتا ہے کہ اگر انسان اپنی امیدوں کو بہت زیادہ بڑھا لے تو اس کے اعمال متاثر ہوتے ہیں۔ اس کا تاریخی پس منظر یہ ہے کہ امام علی علیہ السلام نے اپنی زندگی میں بہت سی مشکلات کا سامنا کیا اور لوگوں کو حقیقت پسندی کی تعلیم دی۔ یہ حکمت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ انسان کو اپنی امیدوں کو حقیقت کے دائرے میں رکھنا چاہیے۔
طول امل کا مطلب ہے کہ انسان اپنی خواہشات اور امیدوں کو اتنا بڑھا لیتا ہے کہ وہ اپنی موجودہ ذمہ داریوں اور اعمال کو نظر انداز کر دیتا ہے۔ یہ ایک عام انسانی فطرت ہے کہ انسان مستقبل کی امیدوں میں اتنا گم ہو جاتا ہے کہ وہ حال کی حقیقتوں کو بھول جاتا ہے۔ اس حکمت میں یہ پیغام ہے کہ انسان کو اپنے اعمال پر توجہ دینی چاہیے اور طویل امیدوں کے چکر میں نہیں آنا چاہیے۔
اس حکمت کی ایک اہم تعلیم یہ ہے کہ انسان کو اپنے اعمال میں استقامت اور سنجیدگی اختیار کرنی چاہیے۔ اگر انسان اپنی امیدوں کو حقیقت کے مطابق رکھے تو وہ اپنے اعمال کو بہتر بنا سکتا ہے۔ یہ بات ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ ہمیں اپنے مقاصد کو حقیقت پسندانہ انداز میں طے کرنا چاہیے تاکہ ہم اپنے اعمال کو بگاڑنے سے بچ سکیں۔
