امیرالمومنین علیہ السلام کی یہ حکمت اس وقت کی ہے جب آپ شام کی جانب روانہ ہو رہے تھے۔ مقام انبار کے زمینداروں نے آپ کا استقبال کرنے کے لیے پیادہ ہو کر آپ کے سامنے دوڑنا شروع کر دیا۔ یہ ایک ایسے وقت میں ہوا جب اسلامی معاشرے میں حکمرانوں کی تعظیم کا ایک خاص طریقہ رائج تھا۔ اس واقعے سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ بعض روایات اور رسومات بے مقصد ہو سکتی ہیں اور ان کا حقیقی فائدہ نہیں ہوتا۔
آپ نے ان زمینداروں سے پوچھا کہ انہوں نے ایسا کیوں کیا، تو انہوں نے جواب دیا کہ یہ ان کا عام طریقہ ہے جس سے وہ اپنے حکمرانوں کی عزت کرتے ہیں۔ امیرالمومنین نے انہیں یہ سمجھایا کہ اس عمل سے ان کے حکمرانوں کو کوئی فائدہ نہیں ہوتا، بلکہ وہ خود اپنی زندگی کو مشقت میں ڈال رہے ہیں اور آخرت میں عذاب کا سامنا کرنے کے لیے خود کو تیار کر رہے ہیں۔
یہاں پر دو اہم نکات ہیں: ایک تو یہ کہ انسان کو اپنی کوششوں کا جائزہ لینا چاہیے کہ آیا وہ واقعی کسی فائدے کا باعث بن رہی ہیں یا نہیں۔ دوسرا یہ کہ دنیاوی رسومات کی بجائے حقیقی عزت و احترام کے طریقے اپنانے کی ضرورت ہے جو انسان کو آخرت میں کامیابی کی طرف لے جائیں۔
امیرالمومنین کی یہ بات ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ انسان کو اپنی زندگی میں آرام کو ترجیح دینی چاہیے، خاص کر ایسے اعمال سے بچنا چاہیے جو اس کے لیے دنیا اور آخرت میں نقصان کا باعث بن سکتے ہیں۔ یہ حکمت ہمیں یہ یاد دلاتی ہے کہ حقیقی کامیابی اس میں ہے کہ ہم اپنے اعمال کو اللہ کی رضا کے مطابق ڈھالیں اور اس کے عذاب سے بچنے کی کوشش کریں۔
