حکمت (356) میں حضرت علی علیہ السلام کی یہ بات ہمیں ایک اہم حقیقت کی طرف متوجہ کرتی ہے کہ انسان کی روزی اور موت کا تعلق اللہ کی حکمت سے ہے۔ اس حکمت کا تاریخی پس منظر یہ ہے کہ حضرت علی علیہ السلام نے یہ بات اس وقت فرمائی جب لوگ دنیاوی چیزوں کے پیچھے بھاگ رہے تھے اور اپنی زندگیوں میں بے مقصدیت محسوس کر رہے تھے۔ یہ بات ہمیں یاد دلاتی ہے کہ دنیاوی وسائل کی جمع آوری کا کوئی حقیقی فائدہ نہیں جب تک کہ وہ اللہ کی رضا کے مطابق نہ ہو۔
یہ حکمت ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ انسان کو اپنی روزی کی فکر کرنی چاہیے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ اللہ کی رضا کو بھی مقدم رکھنا چاہیے۔ حضرت علی علیہ السلام کا یہ کہنا کہ "جدھر سے اس کی موت آئے گی" اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ انسان کی تقدیر اور روزی کا فیصلہ اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ اس لیے ہمیں اپنی کوششوں کے ساتھ ساتھ اللہ پر توکل بھی کرنا چاہیے۔
مفہوم یہ ہے کہ انسان اپنی زندگی میں جو بھی کوشش کرتا ہے، اگر وہ اللہ کی رضا کے خلاف ہو تو اس کا نتیجہ نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ اس حکمت کے ذریعے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہم دنیاوی چیزوں کے پیچھے بھاگنے کے بجائے اپنی آخرت کی فکر کریں۔
اس حکمت کا عملی پہلو یہ ہے کہ ہمیں اپنے وسائل کو صحیح طریقے سے استعمال کرنا چاہیے اور اپنے عمل میں صداقت اور انصاف کو مدنظر رکھنا چاہیے۔ اگر ہم اپنے وسائل کو اللہ کی رضا کے لیے خرچ کریں گے تو ہمیں اللہ کی رحمت اور برکت حاصل ہوگی۔
