حکمت (369) میں امام علی (علیہ السلام) نے ایک دور کی پیش گوئی کی ہے جب لوگوں میں صرف قرآن کے نقوش اور اسلام کا نام باقی رہے گا۔ یہ الفاظ اس وقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں جب دین کی اصل روح اور ہدایت کا فقدان ہوگا، حالانکہ ظاہری طور پر مساجد آباد اور خوبصورت ہوں گی۔ یہ ایک خطرناک دور کی نشاندہی کرتا ہے جب لوگ دین کے حقیقی معانی سے بے خبر ہوں گے۔
اس حکمت میں یہ بات واضح کی گئی ہے کہ ایسے لوگ جو مساجد کو آباد کرتے ہیں، وہ دراصل دین کے روحانی معانی سے عاری ہوں گے۔ ان کا کردار فتنے اور گناہوں کی ترغیب دینے والا ہوگا۔ یہ ایک روحانی و اخلاقی تنبیہ ہے کہ ہم اپنے ایمان کی حفاظت کریں اور اس کے حقیقی معانی کو سمجھنے کی کوشش کریں۔
امام علی (علیہ السلام) نے اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ ایسے لوگوں کے درمیان رہنا خطرناک ہوگا، کیونکہ وہ دوسروں کو بھی گمراہ کرنے کی کوشش کریں گے۔ ان کا اثر اتنا شدید ہوگا کہ جو لوگ ان فتنوں سے بچنے کی کوشش کریں گے، انہیں دوبارہ ان کی طرف پلٹانے کی کوشش کی جائے گی۔
یہ حکمت ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ ہمیں اپنے ایمان کو مضبوط کرنے کے لئے کوشش کرنی چاہیے اور دین کے حقیقی معانی کو سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ ہمیں ان لوگوں سے دور رہنے کی کوشش کرنی چاہیے جو دین کی روح کو سمجھنے میں ناکام ہیں۔ ان فتنوں سے بچنے کے لئے ہمیں اللہ کی مدد طلب کرنی چاہیے اور غفلت کی حالت سے نکلنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
