Nehjul Balagah Detailed Explanation Nehjul Balagah Detailed Explanation : 370

تفصیلی وضاحت — حکمت (370) : جب بھی آپ منبر پر رونق افروز ہوتے تو ایسا اتفاق کم ہوتا تھا کہ خطبہ سے پہلے یہ کلمات نہ فرمائیں۔ اے لوگو! اللہ سے ڈرو،کیونکہ کوئی شخص بے کار پیدا نہیں کیا گیا کہ وہ کھیل کود میں پڑ جائے، اور نہ اسے بے قید و بند چھوڑ دیا گیا ہے کہ بیہودگیاں کرنے لگے اور دنیا جو اس کے لیے آراستہ و پیراستہ ہے اس آخرت کا عوض نہیں ہوسکتی جس کو اس کی غلط نگاہ نے بری صورت میں پیش کیا ہے وہ فریب خوردہ جو اپنی بلند ہمتی سے دنیا حاصل کرنے میں کامیاب ہو اس دوسرے شخص کے مانند نہیں ہوسکتا جس نے تھوڑا بہت آخرت کا حصہ حاصل کر لیا ہو۔ (370- تقویٰ و پرہیزگاری)

حکمت (370) میں امام علی (علیہ السلام) نے لوگوں کو اللہ سے ڈرنے کی تلقین کی ہے۔ یہ کلمات عموماً آپ کے خطبوں کا آغاز ہوتے تھے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ آپ کی تعلیمات میں تقویٰ اور خوفِ خدا کی کتنی اہمیت ہے۔ اس حکمت کا تاریخی پس منظر یہ ہے کہ یہ خطبے آپ کے دور خلافت میں دیے گئے، جب معاشرتی اور سیاسی مسائل نے لوگوں کو مختلف چیلنجز کا سامنا کرنے پر مجبور کر دیا تھا۔

اس حکمت میں کچھ اہم موضوعات شامل ہیں، جیسے کہ انسان کی تخلیق کا مقصد، دنیا کی فانی نوعیت، اور آخرت کی اہمیت۔ امام (ع) فرماتے ہیں کہ انسان کو بے کار پیدا نہیں کیا گیا، بلکہ اس کی زندگی کا ایک مقصد ہے جو کہ اللہ کی رضا کا حصول ہے۔ یہ ایک اہم پیغام ہے کہ ہمیں اپنی زندگیوں کو کھیل تماشا سمجھ کر نہیں گزارنا چاہیے۔

امام علی (ع) دنیا کی عارضیت کی طرف اشارہ کرتے ہیں اور یہ بتاتے ہیں کہ جو شخص دنیا کے پیچھے بھاگتا ہے، وہ دراصل آخرت کی حقیقت کو نظر انداز کر رہا ہے۔ اس میں ایک گہری روحانی سبق ہے کہ ہمیں دنیا کی عارضیت کو سمجھنا چاہیے اور آخرت کی تیاری کرنی چاہیے۔

یہ حکمت ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ دنیا کی کامیابی کا معیار صرف مادی دولت نہیں ہے، بلکہ حقیقی کامیابی وہ ہے جو آخرت میں حاصل کی جائے۔ امام (ع) کی یہ بات ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ہمیں اپنی بلند ہمتی کے ساتھ دنیا کی چیزوں کی بجائے آخرت کی چیزوں کی طلب کرنی چاہیے۔