حکمت (370) میں امام علی (علیہ السلام) نے لوگوں کو اللہ سے ڈرنے کی تلقین کی ہے۔ یہ کلمات عموماً آپ کے خطبوں کا آغاز ہوتے تھے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ آپ کی تعلیمات میں تقویٰ اور خوفِ خدا کی کتنی اہمیت ہے۔ اس حکمت کا تاریخی پس منظر یہ ہے کہ یہ خطبے آپ کے دور خلافت میں دیے گئے، جب معاشرتی اور سیاسی مسائل نے لوگوں کو مختلف چیلنجز کا سامنا کرنے پر مجبور کر دیا تھا۔
اس حکمت میں کچھ اہم موضوعات شامل ہیں، جیسے کہ انسان کی تخلیق کا مقصد، دنیا کی فانی نوعیت، اور آخرت کی اہمیت۔ امام (ع) فرماتے ہیں کہ انسان کو بے کار پیدا نہیں کیا گیا، بلکہ اس کی زندگی کا ایک مقصد ہے جو کہ اللہ کی رضا کا حصول ہے۔ یہ ایک اہم پیغام ہے کہ ہمیں اپنی زندگیوں کو کھیل تماشا سمجھ کر نہیں گزارنا چاہیے۔
امام علی (ع) دنیا کی عارضیت کی طرف اشارہ کرتے ہیں اور یہ بتاتے ہیں کہ جو شخص دنیا کے پیچھے بھاگتا ہے، وہ دراصل آخرت کی حقیقت کو نظر انداز کر رہا ہے۔ اس میں ایک گہری روحانی سبق ہے کہ ہمیں دنیا کی عارضیت کو سمجھنا چاہیے اور آخرت کی تیاری کرنی چاہیے۔
یہ حکمت ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ دنیا کی کامیابی کا معیار صرف مادی دولت نہیں ہے، بلکہ حقیقی کامیابی وہ ہے جو آخرت میں حاصل کی جائے۔ امام (ع) کی یہ بات ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ہمیں اپنی بلند ہمتی کے ساتھ دنیا کی چیزوں کی بجائے آخرت کی چیزوں کی طلب کرنی چاہیے۔
