Nehjul Balagah Detailed Explanation Nehjul Balagah Detailed Explanation : 379

تفصیلی وضاحت — حکمت (379) : رزق دو طرح کا ہوتا ہے۔ ایک وہ جس کی تلا ش میں تم ہو، اور ایک وہ جو تمہاری جستجو میں ہے۔ اگر تم اس تک نہ پہنچ سکو گے، تو وہ تم تک پہنچ کر رہے گا۔ لہٰذا اپنے ایک دن کی فکر پر سال بھر کی فکریں نہ لادو۔ جو ہر دن کا رزق ہے وہ تمہارے لیے کافی ہے، تو اللہ ہر نئے دن جو روزی اس نے تمہارے لیے مقرر کر رکھی ہے وہ تمہیں دے گا اور تمہاری عمر کا کوئی سال باقی نہیں ہے تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ کوئی طلبگار تمہارے رزق کی طرف تم سے آگے بڑھ نہیں سکتا اور نہ کوئی غلبہ پانے والا اس میں تم پر غالب آسکتا ہے اور جو تمہارے لیے مقدر ہو چکا ہے اس کے ملنے میں کبھی تاخیر نہ ہو گی۔ (سید رضی فرماتے ہیں کہ) یہ کلام اسی باب میں پہلے بھی درج ہو چکا ہے۔ مگر یہاں کچھ زیادہ وضاحت و تشریح کے ساتھ تھا،اس لیے ہم نے اس کا اعادہ کیا ہے اس قاعدہ کی بناء پر جو کتا ب کے دیباچہ میں گزر چکا ہے۔ (379- رزق وروزی)

حکمت (379) میں امام علی (علیہ السلام) نے رزق کی دو اقسام کی وضاحت کی ہے: ایک وہ رزق جو انسان خود تلاش کرتا ہے اور دوسرا وہ جو خود انسان کی جستجو میں ہوتا ہے۔ یہ حکمت ہمیں یہ سمجھاتی ہے کہ رزق کی تلاش میں انسان کو اتنا پریشان نہیں ہونا چاہیے۔ اگرچہ ہم اپنی محنت سے رزق حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، مگر یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ جو چیزیں مقدر ہیں، وہ خود انسان تک پہنچ کر رہیں گی۔

یہ حکمت ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ ہمیں روزانہ کی ضروریات پر توجہ دینی چاہیے اور ایک دن کی فکر میں سال بھر کی فکریں نہیں لانا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ ہر دن کے لیے جو رزق مقرر کر چکے ہیں، وہ ہمیں ضرور عطا کریں گے۔ اس سے ہمیں یہ درس ملتا ہے کہ ہمیں اپنی زندگی کو اس طرح گزارنا چاہیے کہ ہم ہر دن کی ضروریات پر توجہ دیں اور کل کی فکر میں نہ رہیں۔

امام علی (علیہ السلام) کا یہ بیان ہمیں یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ رزق کی طلب میں کبھی بھی بے صبری نہیں کرنی چاہیے۔ جو چیزیں ہمارے لیے مقدر ہیں، ان کے ملنے میں کبھی تاخیر نہیں ہوگی۔ اس کے علاوہ، ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ کوئی بھی شخص ہمارے رزق کی طرف ہم سے آگے نہیں بڑھ سکتا اور نہ ہی کوئی طاقتور ہمیں اس میں غالب آ سکتا ہے۔ یہ ایک روحانی تسلی ہے کہ اللہ کی تقسیم میں کوئی کمی نہیں ہوتی۔