حکمت (379) میں امام علی (علیہ السلام) نے رزق کی دو اقسام کی وضاحت کی ہے: ایک وہ رزق جو انسان خود تلاش کرتا ہے اور دوسرا وہ جو خود انسان کی جستجو میں ہوتا ہے۔ یہ حکمت ہمیں یہ سمجھاتی ہے کہ رزق کی تلاش میں انسان کو اتنا پریشان نہیں ہونا چاہیے۔ اگرچہ ہم اپنی محنت سے رزق حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، مگر یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ جو چیزیں مقدر ہیں، وہ خود انسان تک پہنچ کر رہیں گی۔
یہ حکمت ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ ہمیں روزانہ کی ضروریات پر توجہ دینی چاہیے اور ایک دن کی فکر میں سال بھر کی فکریں نہیں لانا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ ہر دن کے لیے جو رزق مقرر کر چکے ہیں، وہ ہمیں ضرور عطا کریں گے۔ اس سے ہمیں یہ درس ملتا ہے کہ ہمیں اپنی زندگی کو اس طرح گزارنا چاہیے کہ ہم ہر دن کی ضروریات پر توجہ دیں اور کل کی فکر میں نہ رہیں۔
امام علی (علیہ السلام) کا یہ بیان ہمیں یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ رزق کی طلب میں کبھی بھی بے صبری نہیں کرنی چاہیے۔ جو چیزیں ہمارے لیے مقدر ہیں، ان کے ملنے میں کبھی تاخیر نہیں ہوگی۔ اس کے علاوہ، ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ کوئی بھی شخص ہمارے رزق کی طرف ہم سے آگے نہیں بڑھ سکتا اور نہ ہی کوئی طاقتور ہمیں اس میں غالب آ سکتا ہے۔ یہ ایک روحانی تسلی ہے کہ اللہ کی تقسیم میں کوئی کمی نہیں ہوتی۔
