Nehjul Balagah Detailed Explanation Nehjul Balagah Detailed Explanation : 384

تفصیلی وضاحت — حکمت (384) : دنیا کی حالت دیکھتے ہوئے اس کی طرف جھکنا جہالت ہے اور حسن عمل کے ثواب کا یقین رکھتے ہوئے اس میں کوتاہی کرنا گھاٹا اٹھانا ہے۔ اور پرکھے بغیر ہر ایک پر بھروسا کر لینا عجز و کمزور ی ہے۔ (384- محل اعتماد)

حکمت (384) میں امام علی علیہ السلام نے دنیا کی فانی نوعیت اور اس کی طرف جھکنے کے نقصانات کی طرف اشارہ کیا ہے۔ یہ حکمت ہمیں یہ بتاتی ہے کہ دنیا کی حالت کو دیکھتے ہوئے اس کی طرف جھکنا جہالت ہے۔ دنیا کی زندگی عارضی ہے اور اس کی محبت انسان کو صحیح راستے سے ہٹا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ، حسن عمل کے ثواب کا یقین رکھتے ہوئے اس میں کوتاہی کرنا گھاٹا اٹھانا ہے، یعنی اگر ہم نیک عمل کرنے میں سستی کریں تو ہم اپنی آخرت کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

یہاں پر امام علیہ السلام نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ بغیر پرکھے ہر ایک پر بھروسا کر لینا عجز و کمزوری ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں لوگوں کی نیت اور کردار کو جانچنے کی ضرورت ہے۔ ہر ایک پر اندھا اعتماد کرنا ہمیں نقصان پہنچا سکتا ہے۔ اس حکمت میں ہمیں یہ سکھایا گیا ہے کہ ہمیں دنیا کی فانی چیزوں سے دور رہنا چاہیے اور اپنے اعمال میں مستقل مزاجی رکھنی چاہیے۔

امام علی علیہ السلام کی یہ حکمت ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ ہمیں دنیا کی عارضیت کو سمجھنا چاہیے اور اپنے اعمال کو بہتر بنانا چاہیے۔ دنیا کی طرف جھکنے سے بچنے کے لیے ہمیں اپنے ایمان کو مضبوط کرنا ہوگا اور آخرت کی کامیابی کے لیے کوشش کرنی ہوگی۔ یہ حکمت ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ ہمیں دوسروں کے بارے میں سوچتے وقت ان کی نیت اور کردار کو جانچنے کی ضرورت ہے تاکہ ہم اپنے فیصلے درست طور پر کر سکیں۔