Nehjul Balagah Detailed Explanation Nehjul Balagah Detailed Explanation : 385

تفصیلی وضاحت — حکمت (385) : اللہ کے نزدیک دنیا کی حقارت کے لیے یہی بہت ہے کہ اللہ کی معصیت ہوتی ہے تو اس میں اور اس کے یہاں کی نعمتیں حاصل ہوتی ہیں تو اسے چھوڑنے سے۔ (385- دنیا)

حکمت (۳۸۵) میں امام علی (علیہ السلام) یہ بیان فرما رہے ہیں کہ دنیا کی حقارت کا یہ بڑا ثبوت ہے کہ اللہ کی نافرمانی صرف اسی دنیا میں ہوتی ہے۔ اس میں جو نعمتیں حاصل کی جاتی ہیں، وہ دراصل اللہ کے نزدیک دنیا کی حیثیت کو کمزور کرتی ہیں۔ یہ حکمت ہمیں یہ سمجھاتی ہے کہ دنیاوی چیزوں کی طلب میں ہم اللہ کی رضا کو بھول جاتے ہیں، اور یہ چیزیں ہمیں اللہ کی نافرمانی کی طرف لے جاتی ہیں۔

اس حکمت کا تاریخی پس منظر یہ ہے کہ امام علی (علیہ السلام) نے اپنی زندگی میں بہت سی مشکلات اور چیلنجز کا سامنا کیا، اور انہوں نے ہمیشہ اللہ کی رضا کو مقدم رکھا۔ اس حکمت میں ہمیں یہ سکھایا جا رہا ہے کہ دنیا کی عیش و عشرت کو چھوڑنا دراصل اللہ کی قربت کا راستہ ہے۔

امام علی (علیہ السلام) کی یہ بات ہمیں یہ یاد دلاتی ہے کہ دنیا کی عیش و عشرت عارضی ہے، اور اس کے مقابلے میں آخرت کی نعمتیں مستقل اور حقیقی ہیں۔ ہمیں دنیاوی چیزوں کی محبت میں اتنا غرق نہیں ہونا چاہیے کہ ہم اللہ کی رضا کو بھول جائیں۔

اخلاقی اور روحانی لحاظ سے، یہ حکمت ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ ہمیں دنیاوی چیزوں کی طلب میں اتنا آگے نہیں بڑھنا چاہیے کہ ہم اللہ کی نافرمانی کریں۔ اس کے برعکس، ہمیں اللہ کی راہ میں صبر اور استقامت کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔

عملی طور پر، اس حکمت کا پیغام یہ ہے کہ ہمیں اپنی زندگی میں دنیاوی چیزوں کی قدر و قیمت کو سمجھنا چاہیے اور ان کی محبت میں اتنا غرق نہیں ہونا چاہیے کہ ہم اللہ کی نافرمانی کریں۔ ہمیں اپنی زندگی کا مقصد اللہ کی رضا حاصل کرنا اور آخرت کی کامیابی کی جانب بڑھنا ہونا چاہیے۔