Nehjul Balagah Detailed Explanation Nehjul Balagah Detailed Explanation : 39

تفصیلی وضاحت — حکمت (39) : مستحبات سے قربِ الٰہی نہیں حاصل ہوسکتا، جب کہ وہ واجبات میں سدِ راہ ہوں۔ (39- فرائض کی اہمیت)

اس حکمت کا پس منظر یہ ہے کہ امام علی (علیہ السلام) نے اپنی زندگی میں دین کی صحیح تفہیم کو پیش کیا۔ یہ قول اس وقت کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے جب لوگ مستحب اعمال کو فرض اعمال پر ترجیح دینے لگے تھے۔ یہ ایک عمومی مسئلہ ہے جہاں لوگ مستحب عبادات میں مشغول ہو جاتے ہیں جبکہ فرائض کو نظرانداز کرتے ہیں۔

اس حکمت میں امام علی (علیہ السلام) یہ واضح کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی قربت حاصل کرنے کے لیے سب سے پہلے فرض اعمال کی ادائیگی ضروری ہے۔ مستحب اعمال، جیسے نفل نماز یا اضافی صدقہ، اہم ہیں لیکن یہ فرائض کی بنیاد پر نہیں آ سکتے۔ اگر کوئی شخص مستحب اعمال میں مشغول ہو جائے اور فرائض کو چھوڑ دے تو وہ دراصل اپنی روحانی ترقی میں رکاوٹ ڈال رہا ہے۔

یہ حکمت ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ دین میں توازن بہت ضروری ہے۔ ہمیں اپنی عبادات میں ترتیب اور اہمیت کا خیال رکھنا چاہیے۔ فرض اعمال، جیسے کہ نماز، روزہ، زکات وغیرہ، ہماری روحانی بنیاد ہیں۔ ان کی ادائیگی کے بغیر ہم مستحب اعمال کی روحانی فوائد حاصل نہیں کر سکتے۔

اخلاقی اور روحانی سبق یہ ہے کہ ہمیں اپنے دین کی بنیادیات کو سمجھنا اور ان کی پاسداری کرنا چاہیے۔ اگر ہم فرض اعمال کو نظرانداز کریں گے تو ہماری مستحب عبادات بھی بے معنی ہو جائیں گی۔ اس لیے، ہمیں ہمیشہ اپنی عبادات میں فرض کو مقدم رکھنا چاہیے۔