Nehjul Balagah Detailed Explanation Nehjul Balagah Detailed Explanation : 40

تفصیلی وضاحت — حکمت (40) : عَقْل مَنْد کی زَبان اس کے دِل کے پِیچھے ہے اور بے وَقُوف کا دِل اس کی زَبان کے پِیچھے ہے۔ (40- دانا و نادان)

حکمت (40): عقل مند کی زبان اس کے دل کے پیچھے ہے اور بے وقوف کا دل اس کی زبان کے پیچھے ہے۔

یہ حکمت امام علی علیہ السلام کی عمیق بصیرت کی عکاسی کرتی ہے۔ یہ بات ہمیں بتاتی ہے کہ عقل مند انسان اپنی بات کرنے سے پہلے اپنے دل میں غور و فکر کرتا ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ جو کچھ وہ کہنے جا رہا ہے، اس کی اہمیت کیا ہے اور کیا یہ بات صحیح ہے یا نہیں۔ اس کے برعکس، بے وقوف انسان بغیر سوچے سمجھے بولتا ہے، جس کی وجہ سے وہ اکثر غلط فہمیاں پیدا کرتا ہے۔

اس حکمت میں ایک اہم پیغام یہ ہے کہ عقل کو ہمیشہ ترجیح دینی چاہیے۔ عقل مند انسان کی زبان اس کے دل کی رہنمائی کرتی ہے، جبکہ بے وقوف کی زبان اس کے دل کو کنٹرول کرتی ہے۔ یہ بات ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ ہمیں اپنے خیالات اور الفاظ پر غور کرنا چاہیے، تاکہ ہم صحیح اور مفید باتیں ہی کریں۔

اس حکمت کا تاریخی پس منظر یہ ہے کہ امام علی علیہ السلام نے اپنی زندگی کے مختلف مراحل میں لوگوں کی عقل و دانش کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ یہ حکمت ایک ایسی نصیحت ہے جو ہر دور کے لوگوں کے لیے اہمیت رکھتی ہے۔ یہ ہمیں یہ بھی یاد دلاتی ہے کہ ہمیں اپنی باتوں کا اثر سمجھنا چاہیے اور ان کا استعمال دانشمندی سے کرنا چاہیے۔