Nehjul Balagah Detailed Explanation Nehjul Balagah Detailed Explanation : 41

تفصیلی وضاحت — حکمت (41) : یہی مطلب دوسرے لفظوں میں بھی حضرت سے مروی ہے اور وہ یہ کہ »بے وقوف کا دل اس کے منہ میں ہے اور عقلمند کی زبان اس کے دل میں ہے«۔بہر حال ان دونوں جملوں کا مقصد ایک ہے۔ (41- عاقل و احمق)

یہ حکمت امام علی علیہ السلام کی بصیرت اور فہم کی عکاسی کرتی ہے۔ اس کا تاریخی پس منظر اس وقت کا ہے جب امام علی علیہ السلام نے اسلامی معاشرے میں علم و حکمت کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ اس قول کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ بے وقوف لوگ اپنی باتوں میں جلد بازی کرتے ہیں، جبکہ عقلمند افراد سوچ سمجھ کر بولتے ہیں۔

اس حکمت میں دو اہم کرداروں کا ذکر کیا گیا ہے: بے وقوف اور عقلمند۔ بے وقوف کا دل اس کے منہ میں ہوتا ہے، یعنی وہ اپنی باتوں میں بے سوچے سمجھے بولتا ہے، جو اس کی بے وقوفی کی نشانی ہے۔ دوسری طرف، عقلمند کی زبان اس کے دل میں ہوتی ہے، یعنی وہ اپنی باتوں کو سمجھ کر، غور و فکر کے بعد ہی بیان کرتا ہے۔

یہ حکمت ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ ہمیں اپنی باتوں کا انتخاب سوچ سمجھ کر کرنا چاہیے۔ بے وقوفی میں جلد بازی اور بے احتیاطی ہوتی ہے، جبکہ عقلمندی میں صبر اور غور و فکر شامل ہوتا ہے۔ اس کے نتیجے میں، عقلمند افراد اپنی باتوں سے زیادہ اثر رکھتے ہیں۔

عملی طور پر، ہمیں اپنی گفتگو میں احتیاط برتنی چاہیے۔ ہمیں اپنے خیالات کو واضح کرنے سے پہلے سوچنا چاہیے کہ کیا ہم جو کہہ رہے ہیں، وہ صحیح ہے یا نہیں۔ اس طرح ہم نہ صرف اپنی عقل کی قدر کریں گے بلکہ دوسروں پر بھی مثبت اثر ڈالیں گے۔