Nehjul Balagah Detailed Explanation Nehjul Balagah Detailed Explanation : 390

تفصیلی وضاحت — حکمت (390) : مومن کے اوقات تین ساعتوں پر منقسم ہوتے ہیں ایک وہ کہ جس میں اپنے پروردگار سے راز و نیاز کی باتیں کرتا ہے۔ اور ایک وہ جس میں اپنے معاش کا سروسامان کرتا ہے اور وہ کہ جس میں حلال و پاکیزہ لذتوں میں اپنے نفس کو آزاد چھوڑ دیتا ہے۔ عقلمند آدمی کو زیب نہیں دیتا کہ وہ گھر سے دور ہو، مگر تین چیزوں کے لیے »معاش«کے بندوبست کے لیے یا امر آخرت کی طرف قدم اٹھانے کے لیے یا ایسی لذت اندوزی کے لیے کہ جو حرام نہ ہو۔ (390- مومن کے اوقات)

حکمت 390 میں امام علی (علیہ السلام) نے مومن کی زندگی کے اوقات کی تقسیم کو بیان کیا ہے۔ یہ حکمت اس وقت کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے جب انسان اپنے رب کے ساتھ تعلق قائم کرتا ہے، اپنے معاش کا بندوبست کرتا ہے، اور حلال و پاکیزہ لذتوں میں مشغول ہوتا ہے۔ یہ تین پہلو انسان کی زندگی کے بنیادی عناصر ہیں جو اس کی روحانی، معاشی، اور نفسیاتی ضروریات کو پورا کرتے ہیں۔

تاریخی تناظر میں، یہ حکمت اس وقت کی ہے جب امام علی (علیہ السلام) نے اسلامی معاشرت میں اخلاقیات اور روحانی تربیت پر زور دیا۔ ان کے دور میں مسلمانوں کو نہ صرف دین کی تعلیمات پر عمل کرنے کی ضرورت تھی بلکہ دنیاوی زندگی میں بھی توازن برقرار رکھنے کی اہمیت کو سمجھنا تھا۔

اس حکمت میں کلیدی فقرے "مومن کے اوقات تین ساعتوں پر منقسم ہوتے ہیں" ہیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ایک مومن کی زندگی میں تین اہم پہلو ہیں۔ پہلی ساعت میں، انسان اپنے رب کے ساتھ راز و نیاز کرتا ہے، جو کہ روحانی سکون اور قربت کا ذریعہ ہے۔ دوسری ساعت میں، وہ اپنے معاش کی فکر کرتا ہے، جو کہ اس کی دنیاوی ضروریات کی تکمیل کے لئے ضروری ہے۔ تیسری ساعت میں، وہ حلال و پاکیزہ لذتوں کا لطف اٹھاتا ہے، جو کہ انسانی فطرت کا ایک حصہ ہے۔

اخلاقی اور روحانی سبق یہ ہے کہ انسان کو اپنی زندگی میں توازن برقرار رکھنا چاہیے۔ صرف عبادت یا صرف دنیاوی امور میں مشغول ہونا درست نہیں۔ اس کے علاوہ، یہ بھی واضح ہے کہ عقلمند انسان کو صرف ان تین امور کے لئے گھر سے دور ہونا چاہیے، جو کہ معاش، آخرت کی تیاری، یا حلال لذتوں کی تلاش ہیں۔

عملی طور پر، اس حکمت سے یہ سبق ملتا ہے کہ ہمیں اپنی روزمرہ کی زندگی میں ان تین پہلوؤں کو مدنظر رکھنا چاہیے۔ ہمیں اپنے روحانی تعلقات، معاشی ذمہ داریوں، اور نفسیاتی خوشیوں کا خیال رکھنا چاہیے۔ یہ توازن ہی ہمیں ایک کامیاب اور خوشحال زندگی کی طرف لے جائے گا۔