Nehjul Balagah Detailed Explanation Nehjul Balagah Detailed Explanation : 391

تفصیلی وضاحت — حکمت (391) : دنیا سے بے تعلق رہو ،تاکہ اللہ تم میں دنیا کی برائیوں کا احساس پیدا کرے۔اور غافل نہ ہو اس لیے کہ تمہاری طرف سے غافل نہیں ہوا جائے گا۔ (391- زہدِ دنیا)

حکمت (391) میں امام علی (علیہ السلام) دنیا سے بے تعلق رہنے کی تلقین کرتے ہیں تاکہ انسان دنیا کی برائیوں کا ادراک کر سکے۔ یہ حکمت اس وقت کی ہے جب لوگ دنیاوی چیزوں میں مشغول تھے اور آخرت کی فکر کو بھول چکے تھے۔ امام علی (ع) کی یہ بات ہمیں یہ سمجھاتی ہے کہ دنیا کی محبت انسان کو غافل کر دیتی ہے۔

امام (ع) کا یہ کہنا کہ "دنیا سے بے تعلق رہو" ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ دنیاوی چیزوں کی محبت میں اتنا نہ کھو جائیں کہ ہم اپنی روحانی حالت کو بھول جائیں۔ بے تعلقی کا مطلب یہ نہیں کہ ہم دنیا سے کنارہ کش ہو جائیں، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم دنیاوی چیزوں کو اپنی زندگی کا محور نہ بنائیں۔

یہ حکمت ہمیں یہ بھی یاد دلاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہماری حالت سے غافل نہیں ہیں۔ اگر ہم دنیا کی برائیوں سے بچنے کی کوشش کریں تو اللہ ہمیں ان کی حقیقت سے آگاہ کرے گا۔ اس کا یہ مطلب ہے کہ اللہ کی رحمت اور ہدایت ہمیشہ ہمارے ساتھ ہے، بس ہمیں اپنی نیت اور کوشش کو درست رکھنا ہے۔

اخلاقی اور روحانی درس یہ ہے کہ ہمیں دنیا کی عارضی خوشیوں کے پیچھے بھاگنے کے بجائے اپنی آخرت کی تیاری کرنی چاہیے۔ اس حکمت میں ہمیں یہ پیغام ملتا ہے کہ دنیا کی فانی چیزوں کی محبت ہمیں اللہ کے راستے سے دور کر سکتی ہے، لہذا ہمیں اپنے دلوں کو دنیا کی محبت سے پاک کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔