حکمت (396) میں امام علی (علیہ السلام) نے ایک عمیق فلسفیانہ نقطہ نظر پیش کیا ہے جو انسانی زندگی کے تجربات اور چیلنجز کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ حکمت اس وقت کی طرف اشارہ کرتی ہے جب انسان کو اپنی عزت نفس اور خود مختاری کے بارے میں سوچنا ہوتا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ موت کا سامنا ہو تو بھی ذلت کو قبول نہ کیا جائے۔ یہ ایک طاقتور پیغام ہے کہ انسان کو اپنی عزت اور وقار کو برقرار رکھنا چاہیے، چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں۔
امام علی (ع) نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ دوسروں کے ذریعے مدد حاصل کرنے کی کوشش نہ کی جائے۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ انسان کو خود پر انحصار کرنا چاہیے اور اپنی محنت پر یقین رکھنا چاہیے۔ جو شخص خود کو دوسروں کی مدد کا محتاج بناتا ہے، وہ کبھی بھی حقیقی کامیابی حاصل نہیں کر سکتا۔
مزید برآں، یہ حکمت زمانے کی نوعیت کی وضاحت کرتی ہے کہ زندگی میں دو قسم کے دن ہوتے ہیں: ایک دن خوشی اور کامیابی کا، اور دوسرا دن مشکلات اور چیلنجز کا۔ امام (ع) نے اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ جب حالات آپ کے حق میں ہوں تو غرور نہ کریں، اور جب حالات آپ کے خلاف ہوں تو صبر کریں۔ یہ صبر اور استقامت کا سبق ہمیں سکھاتا ہے کہ زندگی کے اتار چڑھاؤ کا سامنا کیسے کرنا ہے۔
اس حکمت کی عملی تشریح یہ ہے کہ انسان کو ہمیشہ اپنی عزت نفس کو مقدم رکھنا چاہیے، خود پر یقین رکھنا چاہیے، اور حالات کے مطابق اپنی حکمت عملی ترتیب دینی چاہیے۔ یہ زندگی کے چیلنجز کا سامنا کرنے میں ایک رہنما اصول کی حیثیت رکھتا ہے۔
