حکمت (397) میں امام علی (علیہ السلام) نے دنیا کی حالت پر غور کرنے کی دعوت دی ہے۔ یہ حکمت ہمیں یہ سمجھاتی ہے کہ دنیا کی طرف جھکنا ایک قسم کی جہالت ہے۔ جب ہم دنیا کی عیش و عشرت میں مگن ہو جاتے ہیں تو ہم اپنے اصل مقصد کو بھول جاتے ہیں، جو کہ اللہ کی رضا اور آخرت کی کامیابی ہے۔
اس حکمت کے دوسرے حصے میں یہ بتایا گیا ہے کہ نیک اعمال پر ایمان رکھنا اور ان کے ثواب کی امید کرنا، اگر ہم دنیا کی طرف جھکنے کی عادت ڈالیں تو یہ ایک نقصان ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر ہم صرف دنیاوی فوائد کے پیچھے بھاگیں گے تو ہم اپنے نیک اعمال کی قدر نہیں کر پائیں گے۔
مزید برآں، امام علی (علیہ السلام) اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ہر ایک پر بغیر تحقیق کے اعتماد کرنا کمزوری اور ناکامی کی علامت ہے۔ یہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ ہمیں لوگوں کی نیت اور کردار کو جانچنے کی ضرورت ہے۔
یہ حکمت ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ دنیا کی فانی خوشیوں کی بجائے ہمیں اپنے اعمال کی قدر کرنی چاہیے اور اللہ کی رضا کی تلاش میں رہنا چاہیے۔ اس کے علاوہ، ہمیں اپنے ارد گرد کے لوگوں کی نیت اور کردار کا بھی خیال رکھنا چاہیے تاکہ ہم صحیح فیصلے کر سکیں۔
