حکمت (399) میں امام علی علیہ السلام نے والدین اور اولاد کے حقوق کی وضاحت کی ہے۔ یہ حکمت ہمیں بتاتی ہے کہ والدین اور اولاد کے درمیان ایک متوازن تعلق ہونا چاہیے۔ والد کا حق یہ ہے کہ اس کا بیٹا اس کی بات مانے، سوائے اللہ کی نافرمانی کے۔ یہ بات ہمیں والدین کی عظمت اور ان کی اطاعت کی اہمیت کو سمجھاتی ہے۔ یہ ایک ایسا اصول ہے جو اسلامی تعلیمات میں بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔
دوسری طرف، اولاد کا حق بھی والدین پر ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کے نام کا انتخاب اچھا کریں، انہیں اچھے اخلاق سکھائیں اور قرآن کی تعلیم دیں۔ یہ بات والدین کی ذمہ داریوں کی نشاندہی کرتی ہے اور اس بات کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے کہ ایک بچے کی تربیت میں والدین کا کردار کتنا اہم ہے۔
یہ حکمت ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ والدین اور اولاد کے درمیان ایک دوسرے کے حقوق کا احترام کرنا ضروری ہے۔ یہ ایک ایسا رشتہ ہے جو محبت، احترام اور ذمہ داری پر مبنی ہوتا ہے۔ اگر والدین اپنے بچوں کی تربیت میں کوتاہی کریں گے تو یہ ان کے حقوق کی خلاف ورزی ہوگی، اور اگر بچے اپنے والدین کی بات نہیں مانیں گے تو یہ بھی ان کے حقوق کی خلاف ورزی ہے۔
اس حکمت کا عملی پہلو یہ ہے کہ والدین کو اپنے بچوں کی تربیت میں دلچسپی لینی چاہیے اور انہیں دینی تعلیمات سے روشناس کرانا چاہیے۔ بچوں کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے والدین کا احترام کریں اور ان کی باتیں مانیں۔ یہ دونوں طرف سے تعاون کا ایک عمل ہے جو خاندان کی مضبوطی کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔
