حکمت (401) : لوگوں سے ان کے اخلاق و اطوار میں ہمرنگ ہونا ان کے شر سے محفوظ ہو جانا ہے۔
یہ حکمت امام علی (علیہ السلام) کی تعلیمات کا ایک اہم پہلو ہے جو انسانی معاشرت اور اخلاقی رویوں کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔ یہ قول اس وقت کی معاشرتی حقیقتوں کی عکاسی کرتا ہے جب لوگ مختلف قبائل اور معاشرتی گروہوں میں بٹے ہوئے تھے۔ امام علی (ع) نے اس حکمت کے ذریعے ہمیں یہ سکھایا کہ اگر ہم لوگوں کے اخلاق اور اطوار میں ہم رنگ ہو جائیں، تو اس سے ہم ان کے شر سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔
اس حکمت میں بنیادی موضوعات میں سے ایک یہ ہے کہ معاشرتی ہم آہنگی اور اخلاقی ہم آہنگی کی اہمیت ہے۔ جب ہم دوسروں کے ساتھ اخلاقی طور پر ہم آہنگ ہوتے ہیں تو ہم ان کے ساتھ بہتر تعلقات قائم کر سکتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں، ہم ان کے منفی اثرات سے محفوظ رہتے ہیں۔
اہم جملہ "لوگوں سے ان کے اخلاق و اطوار میں ہم رنگ ہونا" ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ ہم دوسروں کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کرنے کے لئے ان کے رویوں اور اخلاقیات کو سمجھیں۔ یہ ایک طرح کی سماجی حکمت ہے جو انسان کو معاشرتی زندگی میں کامیاب بنانے کے لئے ضروری ہے۔
اخلاقی ہم آہنگی کا ایک اور پہلو یہ ہے کہ یہ ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ بہتر روابط قائم کرنے کی اجازت دیتی ہے۔ اس طرح، ہم ایک دوسرے کے تجربات اور خیالات کا احترام کرتے ہیں اور معاشرتی ہم آہنگی کو فروغ دیتے ہیں۔
عملی طور پر، اس حکمت کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں دوسروں کے ساتھ مل کر چلنا چاہیے، ان کی خوبیوں کو سراہنا چاہیے اور ان کی خامیوں کو برداشت کرنا چاہیے۔ اس کے ذریعے ہم اپنے معاشرتی دائرے میں امن و سکون پیدا کر سکتے ہیں۔
