Nehjul Balagah Detailed Explanation Nehjul Balagah Detailed Explanation : 402

تفصیلی وضاحت — حکمت (402) : ایک ہم کلام ہونے والے سے کہ جس نے اپنی حیثیت سے بڑھ کر ایک بات کہی تھی ،فرمایا تم پر نکلتے ہی اڑنے لگے اور جوان ہونے سے پہلے بلبلانے لگے۔ (سید رضی فرماتے ہیں کہ )اس فقرہ میں شکیر سے مراد وہ پر ہیں جو پہلے پہل نکلتے ہیں اور ابھی مضبوط و مستحکم نہیں ہونے پاتے ، اور سقب اونٹ کے بچے کو کہتے ہیں اور وہ اس وقت بلبلاتا ہے۔جب جوان ہوتا ہے۔ (402- بے محل گفتگو)

حکمت (402) میں امام علی علیہ السلام ایک ایسے شخص کی بات کر رہے ہیں جو اپنی حیثیت سے بڑھ کر بات کرتا ہے۔ یہ حکمت ہمیں یہ سمجھاتی ہے کہ اگر کوئی شخص اپنی قابلیت یا حیثیت سے بڑھ کر بولتا ہے تو اس کی باتوں کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی۔ اس میں ایک تاریخی پس منظر بھی ہے، جہاں امام علی علیہ السلام نے اپنی زندگی کے مختلف مراحل میں ایسے لوگوں کو دیکھا جو اپنی اصل حیثیت سے آگے بڑھ کر باتیں کرتے تھے، لیکن ان کی باتوں میں وزن نہیں ہوتا تھا۔

اس حکمت میں "شکیر" کا ذکر ہے، جو ان پرندوں کی طرف اشارہ کرتا ہے جو پہلی بار اڑنے کی کوشش کرتے ہیں اور ابھی ان کے پر مضبوط نہیں ہوتے۔ یہ ایک علامتی تشبیہ ہے کہ جیسے یہ پرندے اپنی کمزوری کی وجہ سے اڑنے میں ناکام رہتے ہیں، ویسے ہی ایک شخص جو اپنی حیثیت سے بڑھ کر بات کرتا ہے، وہ بھی اپنی کمزوریوں کی وجہ سے کامیاب نہیں ہو سکتا۔

"سقب" کا ذکر بھی ہے، جو اونٹ کے بچے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ یہ بھی ایک علامتی تشبیہ ہے کہ جیسے اونٹ کا بچہ جوان ہونے پر بلبلاتا ہے، ویسے ہی انسان بھی اپنی جوانی میں اپنی حیثیت کو بھول کر بلند آواز میں بات کرتا ہے۔ اس حکمت میں یہ پیغام ہے کہ انسان کو اپنی حیثیت کا خیال رکھنا چاہیے اور اپنی باتوں میں اعتدال سے کام لینا چاہیے۔

اخلاقی اور روحانی طور پر، یہ حکمت ہمیں سکھاتی ہے کہ ہمیں اپنی حیثیت کو سمجھنا اور اس کے مطابق عمل کرنا چاہیے۔ ہمیں اپنی قابلیت سے آگے بڑھ کر باتیں نہیں کرنی چاہئیں، کیونکہ اس سے ہماری سچائی اور اعتبار متاثر ہوتا ہے۔ عملی طور پر، ہمیں اپنی باتوں میں احتیاط برتنا چاہیے اور اپنی حدود کا خیال رکھنا چاہیے تاکہ ہم کسی بھی موقع پر شرمندگی کا سامنا نہ کریں۔