حکمت (405) کا یہ قول امام علی (علیہ السلام) کی بصیرت اور دین کی گہرائی کو بیان کرتا ہے۔ یہ واقعہ عمار بن یاسر اور مغیرہ ابن شعبہ کے درمیان گفتگو کے دوران پیش آیا۔ عمار بن یاسر، جو ایک عظیم صحابی اور امام علی کے وفادار ساتھی تھے، نے مغیرہ کی باتوں میں دین کی سطحی تفہیم کو محسوس کیا۔ امام علی نے عمار کو نصیحت کی کہ اس شخص کو چھوڑ دو، کیونکہ اس نے دین کو صرف اپنی دنیاوی مفادات کے لیے استعمال کیا ہے۔
یہ قول ہمیں یہ سمجھاتا ہے کہ بعض لوگ دین کو صرف اپنی دنیاوی خواہشات کے حصول کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ امام علی نے اس بات کی نشاندہی کی کہ مغیرہ نے اپنی غلطیوں کو چھپانے کے لیے شکوک و شبہات پیدا کیے ہیں۔ یہ ایک اہم اخلاقی سبق ہے کہ ہمیں دین کی سچائی کو سمجھنے کے لیے گہرائی میں جانا چاہیے، نہ کہ صرف ظاہری مفادات کے لیے اس کا استعمال کرنا چاہیے۔
یہ حکمت ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ انسان کی حقیقت اس کے الفاظ میں پوشیدہ ہے۔ جب کوئی شخص بولتا ہے تو اس کی شخصیت اور نیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ اس لیے ہمیں اپنی گفتگو کا خیال رکھنا چاہیے اور ہمیشہ سچائی اور دیانتداری کو اپنانا چاہیے۔
اس حکمت سے عملی سبق یہ ہے کہ ہمیں اپنے ارد گرد کے لوگوں کی باتوں کو سنجیدگی سے لینا چاہیے، خاص طور پر جب وہ دین کے بارے میں بات کر رہے ہوں۔ ہمیں یہ دیکھنا چاہیے کہ آیا وہ واقعی دین کی گہرائی کو سمجھتے ہیں یا صرف اپنی دنیاوی مفادات کے لیے اس کا سہارا لے رہے ہیں۔
