حکمت (406) میں امام علی (علیہ السلام) نے ایک اہم اصول کی وضاحت کی ہے جو معاشرتی رویوں اور اخلاقی اقدار کے حوالے سے ہے۔ یہ حکمت اس وقت کی ہے جب معاشرے میں دولت اور غربت کے درمیان ایک واضح فرق موجود تھا۔ امام علی (علیہ السلام) نے اس حکمت کے ذریعے یہ پیغام دیا ہے کہ دولت مندوں کا فقیروں کے ساتھ عاجزی اور انکساری برتنا نہایت پسندیدہ عمل ہے۔ یہ بات اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ اللہ کے نزدیک وہ لوگ زیادہ پسندیدہ ہیں جو اپنی دولت کے باوجود فقیروں کے ساتھ نرمی سے پیش آتے ہیں۔
دوسری طرف، امام علی (علیہ السلام) نے یہ بھی فرمایا کہ فقراء کا اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے دولت مندوں کے مقابلے میں غرور سے پیش آنا بھی ایک مثبت رویہ ہے۔ یہ ایک طرح کی خود اعتمادی کی علامت ہے کہ فقراء اپنے ایمان اور اللہ کی رحمت پر بھروسہ کرتے ہیں، اور اس کے ذریعے وہ اپنی حیثیت کو بہتر سمجھتے ہیں۔ یہ دونوں رویے معاشرتی توازن اور انسانی اقدار کی عکاسی کرتے ہیں۔
اس حکمت میں دو اہم پہلو ہیں: ایک تو یہ کہ دولت مندوں کو چاہیے کہ وہ فقراء کے ساتھ نرم رویہ اختیار کریں، تاکہ معاشرت میں محبت اور بھائی چارے کی فضا قائم ہو۔ دوسرا یہ کہ فقراء کو اپنے ایمان پر بھروسہ رکھنا چاہیے اور دولت مندوں کے سامنے خود کو کمتر نہ سمجھیں۔ یہ دونوں رویے ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں اور ایک متوازن معاشرت کی تشکیل میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔
اخلاقی اور روحانی اعتبار سے یہ حکمت ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ ہمیں اپنے دل میں عاجزی رکھنی چاہیے اور دوسروں کے ساتھ حسن سلوک کرنا چاہیے، چاہے وہ ہماری حیثیت سے کمزور ہوں یا طاقتور۔ اس کے ساتھ ساتھ، ہمیں اپنی خود اعتمادی کو برقرار رکھتے ہوئے اللہ پر بھروسہ کرنا چاہیے۔ ان دونوں رویوں کے ذریعے ہم ایک بہتر معاشرت کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔
