حکمت (427) میں امام علی (علیہ السلام) نے ایک اہم نکتہ بیان کیا ہے جو انسانی تعلقات اور ایمان کی گہرائیوں کو اجاگر کرتا ہے۔ یہ حکمت ہمیں یہ سمجھاتی ہے کہ جب کوئی شخص اپنی ضروریات یا مشکلات کا ذکر ایک مومن کے سامنے کرتا ہے تو یہ دراصل اللہ کے سامنے اپنی شکایت پیش کرنے کے مترادف ہے۔ اس کے برعکس، اگر وہ کسی کافر کے سامنے اپنی شکایت کرتا ہے تو یہ گویا اللہ کی شکایت کرنے کے مترادف ہے۔
یہ حکمت اس وقت کی اہمیت کو بھی اجاگر کرتی ہے جب مومن اور کافر کے درمیان فرق واضح ہوتا ہے۔ مومن کی موجودگی میں ایک فرد کو اللہ کی رحمت کی امید ہوتی ہے، جبکہ کافر کے سامنے اپنی مشکلات کا ذکر کرنے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ فرد نے اللہ کی مدد کی امید کو ترک کر دیا ہے۔ یہ بات ہمیں اس بات کی یاد دہانی کراتی ہے کہ ہمیں ہمیشہ اپنے مسائل کو مومنوں کے ساتھ بانٹنا چاہیے، تاکہ ہم اللہ کی مدد حاصل کر سکیں۔
اس حکمت میں ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ یہ ہمیں سکھاتی ہے کہ کس طرح اپنی مشکلات کا سامنا کرنا چاہیے۔ مومن کے سامنے اپنی مشکلات کا ذکر کرنے سے نہ صرف دل کو سکون ملتا ہے بلکہ یہ بھی ایک طرح کی دعا ہے۔ اس طرح، مومن کی موجودگی میں انسان اللہ کی رحمت کی طرف رجوع کرتا ہے۔
یہ حکمت ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ ہمیں اپنی مشکلات کا ذکر کرنے کے لیے صحیح لوگوں کا انتخاب کرنا چاہیے۔ اگر ہم اپنی شکایتیں کافروں کے سامنے کرتے ہیں تو ہم اللہ کی رحمت سے محروم ہو سکتے ہیں۔ اس لیے ہمیں ہمیشہ مومنوں کے ساتھ رہنا چاہیے اور ان کے ساتھ اپنے دل کی باتیں کرنی چاہئیں۔
