حکمت (428) ایک عید کے موقع پر فرمایا: عید صرف اس کے لیے ہے جس کے روزوں کو اللہ نے قبول کیا ہو، اور اس کے قیام (نماز) کو قدر کی نگاہ سے دیکھا ہو، اور ہر وہ دن کہ جس میں اللہ کی معصیت نہ کی جائے عید کا دن ہے۔ یہ حکمت امام علی (علیہ السلام) کی گہرائی اور بصیرت کی عکاسی کرتی ہے۔ عید کا تصور عام طور پر خوشی، اجتماع اور عبادت کے مواقع کے طور پر لیا جاتا ہے، لیکن امام علی (علیہ السلام) اس بات کی طرف اشارہ کر رہے ہیں کہ اصل عید اس وقت ہوتی ہے جب انسان کی عبادت اور روزے اللہ کی رضا کے مطابق ہوں۔
یہ حکمت ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ عبادت کا اصل مقصد اللہ کی رضا حاصل کرنا ہے۔ اگر روزے اور نمازیں صرف ظاہری طور پر کی جائیں اور دل کی گہرائیوں سے اللہ کی طرف رجوع نہ ہو، تو ان کا کوئی فائدہ نہیں۔ یہ بات ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ہمیں اپنی نیتوں کو خالص رکھنا چاہیے اور اپنی عبادات میں اخلاص پیدا کرنا چاہیے۔
امام علی (علیہ السلام) اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ہر وہ دن جس میں اللہ کی نافرمانی نہ کی جائے، وہ عید ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں اپنی روزمرہ زندگی میں بھی اللہ کی اطاعت کا خیال رکھنا چاہیے۔ یہ ایک روحانی سبق ہے کہ ہم اپنی زندگی کے ہر لمحے کو عبادت کی طرح گزاریں۔
اس حکمت کا عملی پہلو یہ ہے کہ ہمیں اپنی زندگی میں ایسی سرگرمیاں اپنانی چاہئیں جو اللہ کی رضا کے مطابق ہوں۔ ہمیں اپنے روزمرہ کے معاملات میں بھی اللہ کی یاد رکھنی چاہیے اور ہر دن کو عید کی طرح گزارنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
