Nehjul Balagah Detailed Explanation Nehjul Balagah Detailed Explanation : 429

تفصیلی وضاحت — حکمت (429) : قیامت کے دن سب سے بڑی حسرت اس شخص کی ہو گی جس نے اللہ کی نافرمانی کر کے مال حاصل کیا ہو، اور اس کا وارث وہ شخص ہوا ہو جس نے اسے اللہ کی اطاعت میں صرف کیا ہو کہ یہ تو اس مال کی وجہ سے جنت میں داخل ہوا، اور پہلا اس کی وجہ سے جہنم میں گیا۔ (429- حسرت و اندوہ)

حکمت (429) میں امام علی علیہ السلام نے قیامت کے دن کی ایک اہم حقیقت کی طرف اشارہ کیا ہے۔ یہ حکمت ان لوگوں کے لیے ایک زبردست تنبیہ ہے جو اللہ کی نافرمانی کرتے ہوئے دولت کما لیتے ہیں۔ اس میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ قیامت کے دن سب سے بڑی حسرت اس شخص کی ہو گی جس نے اپنی زندگی میں اللہ کی رضا کے خلاف عمل کیا اور اس کا مال کسی ایسے شخص کے ہاتھوں میں چلا گیا جو اسے اللہ کی اطاعت میں صرف کرتا ہے۔ یہ ایک نہایت ہی تلخ حقیقت ہے کہ وہ شخص جس نے اپنے مال کی وجہ سے جہنم میں جانا ہے، جبکہ اس کا وارث اس مال کی بدولت جنت میں داخل ہو جائے گا۔

تاریخی تناظر میں، یہ حکمت اس وقت کی ہے جب لوگ دنیاوی مال و دولت کے پیچھے بھاگ رہے تھے اور اللہ کی نافرمانی کو معمولی سمجھتے تھے۔ امام علی علیہ السلام نے اس حکمت کے ذریعے لوگوں کو یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ دنیا کی عارضی خوشیاں اور مال و دولت کبھی بھی آخرت کی کامیابی کے برابر نہیں ہو سکتے۔

اس حکمت کے اہم موضوعات میں سے ایک یہ ہے کہ انسان کی نیت اور عمل کا اثر اس کی آخرت پر پڑتا ہے۔ اگر کوئی شخص اللہ کی نافرمانی کرتے ہوئے مال حاصل کرتا ہے، تو وہ نہ صرف اپنے لیے نقصان اٹھاتا ہے بلکہ اس کے وارث بھی اس کے اعمال کی سزا بھگتیں گے۔ یہ ایک طرح کا روحانی سبق ہے کہ ہمیں اپنی نیتوں اور اعمال پر غور کرنا چاہیے۔

اس حکمت میں ایک اور اہم بات یہ ہے کہ اللہ کی اطاعت اور نافرمانی کے درمیان واضح فرق ہے۔ جو شخص اللہ کی اطاعت کرتا ہے، وہ آخرت میں کامیاب ہوتا ہے، جبکہ جو نافرمانی کرتا ہے، اس کا انجام برا ہوتا ہے۔ یہ ایک عملی سبق ہے کہ ہمیں اپنی زندگی میں اللہ کی رضا کو مقدم رکھنا چاہیے، تاکہ ہم قیامت کے دن حسرت و اندوہ سے بچ سکیں۔