Nehjul Balagah Detailed Explanation Nehjul Balagah Detailed Explanation : 430

تفصیلی وضاحت — حکمت (430) : لین دین میں سب سے زیادہ گھاٹا اٹھا نے والا اور دوڑ دھوپ میں سب سے زیادہ ناکام ہونے والا وہ شخص ہے جس نے مال کی طلب میں اپنے بدن کو بوسیدہ کر ڈالا ہو۔ مگر تقدیر نے اس کے ارادوں میں اس کا ساتھ نہ دیا ہو۔ لہٰذا وہ دنیا سے بھی حسرت لیے ہوئے گیا اور آخرت میں بھی اس کی پاداش کاسامنا کیا۔ (430- ناکام کوشش)

حکمت (430):
یہ حکمت امام علی (علیہ السلام) کی ایک اہم تعلیم ہے جو انسان کی زندگی میں مال کی طلب اور اس کے نتائج کے بارے میں ہے۔ یہ قول اس وقت کی عکاسی کرتا ہے جب لوگ مال کی جمع آوری میں مصروف تھے، اور بہت سے لوگ اس کے حصول کے لیے اپنی صحت اور وقت کو قربان کر دیتے تھے۔ امام علی (علیہ السلام) اس حکمت کے ذریعے یہ بتانا چاہتے ہیں کہ مال کی طلب میں انسان کو اپنی جسمانی اور روحانی صحت کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔

اس حکمت میں "لین دین میں سب سے زیادہ گھاٹا" کی اصطلاح اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ انسان اگر مال کی طلب میں اپنی زندگی کی قیمتی چیزوں کو قربان کر دے، تو وہ دراصل ایک نقصان دہ راستے پر گامزن ہے۔ اس میں یہ پیغام بھی ہے کہ تقدیر کا ساتھ نہ دینا، یعنی انسان کی محنت کا نتیجہ نہ آنا، اس کی ناکامی کی ایک بڑی وجہ ہو سکتی ہے۔

امام علی (علیہ السلام) نے یہ بھی واضح کیا کہ ایسے لوگ جو اپنی زندگی کو مال کی طلب میں برباد کرتے ہیں، وہ دنیا سے حسرتوں کے ساتھ رخصت ہوتے ہیں۔ یہ حکمت ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ ہمیں دنیاوی چیزوں کی طلب میں اپنے اخلاق اور روحانی حالت کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔

اس حکمت کا عملی سبق یہ ہے کہ انسان کو اپنی محنت اور کوششوں کے ساتھ ساتھ اپنی صحت اور روحانی حالت کا بھی خیال رکھنا چاہیے۔ ہمیں چاہئے کہ ہم اپنی زندگی میں توازن قائم رکھیں اور مال کی طلب میں اپنی زندگی کی قیمتی چیزوں کو قربان نہ کریں۔