حکمت 435 میں امام علی (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کی حکمت کا ایک عمدہ پہلو بیان کیا ہے۔ یہ حکمت ہمیں یہ سمجھاتی ہے کہ اللہ کسی بندے کے ساتھ کبھی بھی ناانصافی نہیں کرتا۔ اگر وہ کسی کو شکر کرنے کی توفیق دیتا ہے تو اس کے ساتھ نعمتوں کی افزائش کا دروازہ بھی کھولتا ہے۔ یہ بات ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ شکر گزاری اللہ کی نعمتوں کا ایک اہم راستہ ہے۔
اس حکمت میں دعا کی اہمیت بھی واضح کی گئی ہے۔ امام علی (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ اگر اللہ کسی بندے کے لیے دعا کا دروازہ کھولتا ہے تو اس کی قبولیت کا دروازہ بھی کھولتا ہے۔ یہ ہمیں یہ بتاتا ہے کہ دعا کرنا اور اللہ سے مدد مانگنا ایک اہم عمل ہے، اور اللہ ہمیشہ اپنے بندوں کی دعا سنتا ہے۔
توبہ کا دروازہ بھی اس حکمت میں ذکر ہوا ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنے بندوں کے لیے توبہ کا دروازہ کھلا رکھتا ہے، اور اگر کسی نے سچے دل سے توبہ کی تو اللہ اس کی مغفرت بھی فرماتا ہے۔ یہ ایک بڑی امید اور تسلی کا باعث ہے کہ اللہ کی رحمت کبھی ختم نہیں ہوتی۔
امام علی (علیہ السلام) کی یہ حکمت ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ ہمیں ہمیشہ اللہ کی رحمت اور اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرنا چاہیے، دعا میں ثابت قدم رہنا چاہیے، اور توبہ کے دروازے کو کبھی بند نہیں سمجھنا چاہیے۔ یہ حکمت ہمیں اللہ کی رحمت کی وسعت کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے اور ہمیں اپنی زندگی کے ہر پہلو میں اللہ کی طرف رجوع کرنے کی ترغیب دیتی ہے۔
