حکمت (436): لوگوں میں سب سے زیادہ کرم و بخشش کا وہ اہل ہے جس کا رشتہ اشراف سے ملتا ہو۔
یہ حکمت امام علی (علیہ السلام) کی ایک اہم تعلیم ہے جو انسانی معاشرت میں اخلاقی اقدار کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔ یہ قول اس وقت کا ہے جب امام علی (علیہ السلام) نے اپنی زندگی کے مختلف مراحل میں لوگوں کو ان کی ذمہ داریوں کا احساس دلایا اور ان کی اخلاقی تربیت کی۔ اس حکمت میں اشراف کے رشتے کی بات کی گئی ہے، جو اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ نیک اعمال کا تعلق صرف نسب یا نسل سے نہیں بلکہ ان کی نیت اور عمل سے ہے۔
اس حکمت کے چند اہم موضوعات میں کرم و بخشش، نیکی، اور انسانی تعلقات شامل ہیں۔ امام علی (علیہ السلام) نے یہ واضح کیا کہ جو شخص اعلیٰ نسل سے ہے، اس کی ذمہ داری زیادہ ہے کہ وہ دوسروں کے ساتھ نیکی اور کرم کا برتاؤ کرے۔ اس میں یہ بھی شامل ہے کہ کسی بھی شخص کو اس کی حیثیت یا نسل کی بنیاد پر کم تر نہ سمجھا جائے۔
اس حکمت میں ایک اہم جملہ ہے: "افعل الخير ولا تحقرن من الخير قليلا"، یعنی نیکی کرو اور چھوٹی نیکی کو حقیر نہ سمجھو۔ یہ اس بات کی جانب اشارہ کرتا ہے کہ ہر چھوٹا عمل بھی اہمیت رکھتا ہے اور کسی بھی نیکی کا اثر دور رس ہوتا ہے۔
اخلاقی اور روحانی اسباق میں یہ شامل ہے کہ ہمیں اپنی نیت کو صاف رکھنا چاہیے اور اپنے اعمال میں خلوص پیدا کرنا چاہیے۔ عملی طور پر، اس حکمت کا پیغام یہ ہے کہ ہمیں اپنے ارد گرد کے لوگوں کی مدد کرنی چاہیے، چاہے وہ کتنے ہی چھوٹے کیوں نہ ہوں، کیونکہ یہی چھوٹے اعمال بڑے نتائج لا سکتے ہیں۔
