Nehjul Balagah Detailed Explanation Nehjul Balagah Detailed Explanation : 437

تفصیلی وضاحت — حکمت (437) : آپ سے دریافت کیا گیا کہ عدل بہتر ہے یا سخاوت؟ فرمایا عدل تمام امور کو ان کے موقع و محل پر رکھتا ہے، اور سخاوت ان کو ان کی حدوں سے باہر کر دیتی ہے عدل سب کی نگہداشت کر تا ہے، اور سخاوت اسی سے مخصوص ہو گی۔ جسے دیا جائے۔ لہٰذا عدل سخاوت سے بہتر و برتر ہے۔ (437- عدل و جود)

حکمت (437) میں امام علی علیہ السلام نے عدل اور سخاوت کے بارے میں ایک اہم سوال کا جواب دیا ہے۔ یہ سوال اس وقت کے معاشرتی اور سیاسی پس منظر میں کیا گیا تھا جب لوگوں کو انصاف اور فراخی کے درمیان انتخاب کرنا پڑتا تھا۔ امام نے فرمایا کہ عدل ہر چیز کو اس کی جگہ پر رکھتا ہے، یعنی عدل کے ذریعے ہر فرد اور ہر معاملے کو اس کی حیثیت کے مطابق دیکھا جاتا ہے۔

یہاں امام نے عدل کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے، جو کہ ایک عمومی اصول ہے اور تمام افراد کی فلاح و بہبود کے لئے ضروری ہے۔ عدل کا مطلب ہے کہ ہر ایک کو اس کا حق دیا جائے اور اس کی حیثیت کے مطابق اس کی ضروریات کو پورا کیا جائے۔ اس کے برعکس، سخاوت صرف ان لوگوں کے لئے ہے جنہیں کچھ دیا جائے، جو کہ ایک خاص عمل ہے اور عمومی نہیں۔

امام علی علیہ السلام کا یہ بیان ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ عدل کا قیام معاشرتی انصاف کی بنیاد ہے، جبکہ سخاوت ایک اضافی خوبی ہے۔ اگرچہ سخاوت بھی ایک نیک عمل ہے، لیکن جب معاشرے میں عدل نہ ہو تو سخاوت کا اثر محدود ہو جاتا ہے۔ اس لئے امام نے عدل کو سخاوت سے بہتر قرار دیا۔

یہ حکمت ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ ہمیں ہمیشہ عدل کی راہ اختیار کرنی چاہئے اور اس کی بنیاد پر معاشرتی نظام کو مضبوط بنانا چاہئے۔ عدل کے بغیر، کسی بھی معاشرتی نظام کی بنیاد کمزور ہو جاتی ہے۔