(۴۳۸)
لوگ جس چیز کو نہیں جانتے اس کے دشمن ہوتے ہیں۔
یہ حکمت امام علی علیہ السلام کی گہرائی اور بصیرت کی عکاسی کرتی ہے۔ تاریخی طور پر، یہ قول اس وقت کے معاشرتی حالات کی عکاسی کرتا ہے جب لوگ نئی چیزوں سے خوفزدہ ہوتے تھے، خاص طور پر جب وہ ان کی حقیقت یا فوائد سے ناواقف ہوتے تھے۔ یہ دور ایسا تھا جب علم کی کمی اور جہالت کا دور دورہ تھا، اور لوگ اکثر اپنی جہالت کی بنا پر دوسروں کے نظریات یا خیالات کو مسترد کر دیتے تھے۔
اس حکمت میں بنیادی موضوع انسانی نفسیات اور علم کی اہمیت ہے۔ امام علی علیہ السلام ہمیں یہ بتاتے ہیں کہ انسان اپنی ناواقفیت کی بنا پر کسی چیز کے خلاف ہو جاتا ہے۔ اس میں ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ ہمیں اپنے علم میں اضافہ کرنا چاہیے اور دوسروں کی باتوں کو سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
کئی اہم جملے اس حکمت میں پوشیدہ ہیں، جیسے کہ "جہالت" اور "دشمنی"۔ یہ الفاظ ہمیں یہ سمجھاتے ہیں کہ جہالت انسان کو دوسروں کے خلاف کر سکتی ہے، اور یہ ایک خطرناک رویہ ہے جو معاشرتی ہم آہنگی کو متاثر کر سکتا ہے۔
اخلاقی اور روحانی سبق یہ ہے کہ ہمیں اپنے علم میں اضافہ کرنے کی کوشش کرنی چاہیے اور دوسروں کے خیالات کو سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ یہ ہمیں ایک بہتر انسان بنانے میں مدد دے گا اور معاشرتی تعلقات کو مضبوط کرے گا۔ عملی طور پر، ہمیں چاہیے کہ ہم دوسروں کی رائے کا احترام کریں اور ان کے ساتھ گفتگو کریں، چاہے وہ ہمارے نظریات سے مختلف ہوں۔
