حکمت (46) میں امام علی علیہ السلام فرماتے ہیں کہ وہ گناہ جس کا تمہیں رنج ہو، اللہ کے نزدیک اس نیکی سے کہیں بہتر ہے جو تمہیں خود پسند بنا دے۔ یہ حکمت ہمیں یہ سمجھاتی ہے کہ اللہ کی نظر میں نیت اور دل کی حالت زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔ جب انسان کسی گناہ پر پشیمان ہوتا ہے، تو اس کا دل اللہ کی رحمت کی طرف جھک جاتا ہے، جبکہ خود پسندی انسان کو نیکیوں سے دور کر دیتی ہے۔
یہ حکمت اس وقت کی ہے جب امام علی علیہ السلام کی زندگی میں بہت سے چیلنجز اور فتنوں کا سامنا تھا۔ اس دور میں لوگوں کے دلوں میں خود پسندی اور ریاکاری بڑھ رہی تھی۔ امام علی علیہ السلام نے اس حکمت کے ذریعے ہمیں یہ سکھایا کہ حقیقی نیکی وہ ہے جو انسان کو اللہ کے قریب کرے، نہ کہ وہ جو صرف انسان کو خود پسند بنا دے۔
اس حکمت میں ایک اہم سبق یہ ہے کہ ہمیں اپنے اعمال کا محاسبہ کرنا چاہیے۔ اگر ہم کسی گناہ پر رنج محسوس کرتے ہیں، تو یہ ایک مثبت علامت ہے کہ ہمارا دل زندہ ہے اور ہم اللہ کی رحمت کے طلبگار ہیں۔ اس کے برعکس، اگر ہم نیکیوں پر خودپسند ہو جائیں، تو یہ ہمارے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔
اس حکمت کا عملی پہلو یہ ہے کہ ہمیں اپنی نیتوں کو خالص رکھنا چاہیے اور اللہ کی رضا کے لیے اعمال کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ خود پسندی سے بچنے کے لیے ہمیں اپنے دل کی حالت کا جائزہ لینا چاہیے اور اللہ سے استغفار کرنا چاہیے۔
