حکمت (47) : انسان کی جتنی ہمت ہو اتنی ہی اس کی قدر و قیمت ہے اور جب جتنی مروت اور جوانمردی ہو گی اتنی ہی راست گوئی ہو گی ،اور جب جتنی حمیت و خود داری ہو گی اتنی ہی شجاعت ہو گی اور جب جتنی غیرت ہو گی اتنی ہی پاک دامنی ہو گی۔
یہ حکمت امام علی علیہ السلام کی بصیرت و حکمت کی عکاسی کرتی ہے۔ یہ قول انسانی کردار کی مختلف جہتوں کو بیان کرتا ہے اور ان کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ تاریخی اعتبار سے، یہ اقوال اسلامی معاشرت میں اخلاقی تعلیمات کی بنیاد فراہم کرتے ہیں، جہاں انسان کی قدر و قیمت اس کی ہمت اور کردار کی بنیاد پر ہوتی ہے۔
امام علی علیہ السلام نے اس حکمت میں انسان کی ہمت کو اس کی قدر و قیمت کا معیار قرار دیا ہے۔ یہ ہمت صرف جسمانی قوت نہیں بلکہ اخلاقی اور روحانی قوت بھی ہے۔ جب انسان میں مروت اور جوانمردی ہوگی تو وہ سچ بولنے کی ہمت بھی رکھے گا۔ یہ سچائی انسان کی شخصیت کی بنیاد ہے اور اس کی معاشرتی حیثیت کو بلند کرتی ہے۔
اسی طرح، حمیت اور خودداری کا ذکر کرتے ہوئے امام علی علیہ السلام نے شجاعت کی اہمیت کو بیان کیا ہے۔ شجاعت کا مطلب صرف جنگ میں لڑنا نہیں بلکہ اپنے اصولوں کی پاسداری کرنا اور حق کے لیے کھڑے ہونا بھی ہے۔ یہ انسان کی داخلی قوت کو ظاہر کرتا ہے۔
آخر میں، غیرت اور پاکدامنی کا ذکر کرتے ہوئے یہ واضح کیا گیا ہے کہ انسان کی عزت و وقار اس کی غیرت سے جڑی ہوئی ہے۔ یہ غیرت انسان کو برائیوں سے بچاتی ہے اور اسے ایک پاکیزہ زندگی گزارنے کی ترغیب دیتی ہے۔
یہ حکمت ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ انسان کی حقیقی قدر اس کی اخلاقی و روحانی ہمت میں ہے، اور یہ کہ ہر انسان کو اپنی ہمت کو بڑھانے کی کوشش کرنی چاہیے تاکہ وہ اپنی زندگی میں کامیاب ہو سکے۔
