Nehjul Balagah Detailed Explanation Nehjul Balagah Detailed Explanation : 468

تفصیلی وضاحت — حکمت (468) : لوگوں پر ایک ایسا گزند پہنچانے والا دور آئے گا، جس میں مالدار اپنے مال میں بخل کرے گا حالانکہ اسے یہ حکم نہیں۔ چنانچہ اللہ سبحانہ کا ارشاد ہے کہ »آپس میں حسن سلوک کو فراموش نہ کرو «اس زمانہ میں شریر لوگ اٹھ کھڑے ہوں گے اور نیکو کار ذلیل خوار سمجھے جائیں گے اور مجبور اور بے بس لوگوں سے خرید و فروخت کی جائے گی۔حالانکہ رسول اللہ صلی علیہ و آلہ وسلم نے مجبور و مضطر لوگوں سے (اونے پونے )خریدنے کو منع کیا ہے۔ (468- خریدو فروخت)

حکمت (468) میں امام علی علیہ السلام نے ایک ایسے دور کی پیشگوئی کی ہے جس میں لوگوں کی اخلاقی حالت بگڑ جائے گی۔ یہ دور اس وقت کا ہوگا جب مالدار افراد اپنے مال میں بخل کریں گے، حالانکہ انہیں اس کا حکم نہیں دیا گیا۔ اس حکمت میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک اہم نصیحت بھی موجود ہے کہ آپس میں حسن سلوک کو فراموش نہ کیا جائے۔ یہ ایک تنبیہ ہے کہ معاشرتی روابط کو مضبوط رکھنا ضروری ہے، خاص طور پر اس وقت جب حالات مشکل ہوں۔

اس حکمت میں ایک اور اہم نکتہ یہ ہے کہ شریر لوگ اس دور میں غالب ہوں گے جبکہ نیک لوگ ذلیل و خوار سمجھے جائیں گے۔ یہ ایک ایسا معاشرتی منظرنامہ ہے جہاں برائی کو اچھائی پر فوقیت دی جائے گی اور نیک لوگوں کی قدر و قیمت کم ہو جائے گی۔ اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ انسان کو ہمیشہ نیک عمل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے، چاہے معاشرتی حالات کیسے بھی ہوں۔

مزید برآں، امام علی علیہ السلام نے اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا ہے کہ مجبور اور بے بس لوگوں سے خرید و فروخت کی جائے گی، حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس عمل کی سختی سے ممانعت کی ہے۔ اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ ہمیں ہمیشہ انصاف اور رحم دلی کے ساتھ پیش آنا چاہیے، خاص طور پر کمزور لوگوں کے ساتھ۔ یہ حکمت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ہمیں اپنے اعمال کا احتساب کرنا چاہیے اور ان کی بنیاد پر اپنی زندگی گزارنی چاہیے۔