حکمت (468) میں امام علی علیہ السلام نے ایک ایسے دور کی پیشگوئی کی ہے جس میں لوگوں کی اخلاقی حالت بگڑ جائے گی۔ یہ دور اس وقت کا ہوگا جب مالدار افراد اپنے مال میں بخل کریں گے، حالانکہ انہیں اس کا حکم نہیں دیا گیا۔ اس حکمت میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک اہم نصیحت بھی موجود ہے کہ آپس میں حسن سلوک کو فراموش نہ کیا جائے۔ یہ ایک تنبیہ ہے کہ معاشرتی روابط کو مضبوط رکھنا ضروری ہے، خاص طور پر اس وقت جب حالات مشکل ہوں۔
اس حکمت میں ایک اور اہم نکتہ یہ ہے کہ شریر لوگ اس دور میں غالب ہوں گے جبکہ نیک لوگ ذلیل و خوار سمجھے جائیں گے۔ یہ ایک ایسا معاشرتی منظرنامہ ہے جہاں برائی کو اچھائی پر فوقیت دی جائے گی اور نیک لوگوں کی قدر و قیمت کم ہو جائے گی۔ اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ انسان کو ہمیشہ نیک عمل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے، چاہے معاشرتی حالات کیسے بھی ہوں۔
مزید برآں، امام علی علیہ السلام نے اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا ہے کہ مجبور اور بے بس لوگوں سے خرید و فروخت کی جائے گی، حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس عمل کی سختی سے ممانعت کی ہے۔ اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ ہمیں ہمیشہ انصاف اور رحم دلی کے ساتھ پیش آنا چاہیے، خاص طور پر کمزور لوگوں کے ساتھ۔ یہ حکمت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ہمیں اپنے اعمال کا احتساب کرنا چاہیے اور ان کی بنیاد پر اپنی زندگی گزارنی چاہیے۔
