حکمت (469) میں امام علی علیہ السلام فرماتے ہیں کہ میرے بارے میں دو قسم کے لوگ ہلاکت میں مبتلا ہوں گے: ایک محبت میں حد سے بڑھ جانے والا، اور دوسرا جھوٹ و افترا باندھنے والا۔ یہ حکمت ہمیں یہ بتاتی ہے کہ محبت اور نفرت دونوں میں اعتدال ضروری ہے۔ تاریخ میں ہم دیکھتے ہیں کہ بہت سے لوگ امام علی علیہ السلام کی محبت میں اتنے آگے بڑھ گئے کہ انہوں نے ان کی شخصیت کو خدا کی صفات سے تشبیہ دی، جو کہ شرک کے مترادف ہے۔ اس کے برعکس، کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو ان سے بغض رکھتے تھے اور ان کی شخصیت پر بے بنیاد الزامات لگاتے تھے۔
یہ حکمت ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ محبت میں غلو کرنے سے بچنا چاہیے کیونکہ یہ انسان کو حقیقت سے دور کر دیتا ہے۔ اس کے علاوہ، جھوٹ اور افترا باندھنا بھی ایک خطرناک عمل ہے جو انسان کی شخصیت کو نقصان پہنچاتا ہے۔ امام علی علیہ السلام کی یہ بات ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ہمیں اپنے جذبات کو قابو میں رکھنا چاہیے اور حقیقت کی بنیاد پر فیصلے کرنے چاہئیں۔
اس حکمت کے ذریعے امام علی علیہ السلام نے ہمیں یہ پیغام دیا ہے کہ ہر چیز میں توازن رکھنا ضروری ہے۔ محبت اور نفرت دونوں میں اعتدال ہمیں صحیح راستے پر گامزن رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ، ہمیں دوسروں کی عزت اور ان کی شخصیت کا احترام کرنا چاہیے، چاہے ہم ان سے محبت کریں یا نہ کریں۔
