Nehjul Balagah Detailed Explanation Nehjul Balagah Detailed Explanation : 470

تفصیلی وضاحت — حکمت (470) : حضرت سے توحید و عدل کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا توحید یہ ہے کہ اسے اپنے وہم و تصور کا پابند نہ بناؤ اور یہ عدل ہے کہ اس پر الزامات نہ لگاؤ۔ (470- توحید و عدل)

حکمت (۴۷۰) میں حضرت علی علیہ السلام نے توحید اور عدل کے بارے میں ایک اہم بیان دیا ہے۔ یہ حکمت اس وقت کی ہے جب اسلامی معاشرہ اپنے ابتدائی مراحل میں تھا، اور لوگ دین کی بنیادیات کو سمجھنے کی کوشش کر رہے تھے۔ توحید کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو کسی تصور یا وہم میں قید نہ کیا جائے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کی ذات اور صفات کو انسانی عقل کی محدودیتوں میں نہیں باندھا جانا چاہیے۔ یہ ایک عمیق فلسفیانہ نقطہ ہے جو ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اللہ کی حقیقت اس سے کہیں زیادہ وسیع اور عمیق ہے جو ہم سوچ سکتے ہیں۔

عدل کے بارے میں حضرت کا بیان یہ ہے کہ اللہ پر الزامات نہ لگائے جائیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں اللہ کی حکمت اور اس کے فیصلوں پر شک نہیں کرنا چاہیے۔ یہ ایک اہم اخلاقی سبق ہے جو ہمیں سکھاتا ہے کہ ہمیں اللہ کی جانب سے آنے والے حالات اور مشکلات میں صبر اور شکرگزاری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔

یہ حکمت ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ توحید اور عدل کا مفہوم صرف نظریاتی نہیں بلکہ عملی بھی ہے۔ ہمیں اپنے اعمال میں بھی ان اصولوں کو اپنانا چاہیے۔ اگر ہم اللہ کی توحید کو سمجھتے ہیں تو ہمیں اپنے اعمال میں بھی عدل و انصاف کے اصولوں کو مدنظر رکھنا چاہیے۔

اس حکمت کا ایک عملی پہلو یہ ہے کہ ہم اپنے معاشرتی رویوں میں بھی انصاف کو اپنائیں اور دوسروں کی نیتوں پر شک کرنے سے گریز کریں۔ یہ ہمیں ایک بہتر معاشرہ بنانے میں مدد دے گا۔