حکمت (482) میں امام علی علیہ السلام ایک ایسے دور کی پیش گوئی کرتے ہیں جہاں معاشرتی اخلاقیات میں زوال آئے گا۔ یہ دور اس وقت کا ہے جب مالدار افراد اپنے مال میں بخل کرنے لگیں گے، حالانکہ ان پر اس کا کوئی حکم نہیں ہوگا۔ یہ بات ہمیں اس بات کی یاد دہانی کراتی ہے کہ دولت کا صحیح استعمال اور دوسروں کے ساتھ حسن سلوک کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔
اس حکمت میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک اہم ہدایت بھی موجود ہے کہ "آپس میں حسن سلوک کو فراموش نہ کرو"۔ یہ آیت ہمیں بتاتی ہے کہ معاشرتی روابط میں مہربانی اور رحم دلی کی ضرورت ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب لوگ اپنی خودغرضی کی طرف مائل ہوں۔
امام علی علیہ السلام نے اس دور کے لوگوں کی حالت کا ذکر کیا ہے جہاں شریر لوگ سر اٹھائیں گے اور نیک لوگ ذلیل و خوار سمجھے جائیں گے۔ یہ ایک خطرناک صورت حال ہے جو ہمیں بتاتی ہے کہ معاشرتی انصاف اور اخلاقی قدریں کیسے متاثر ہو سکتی ہیں۔
یہ حکمت ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ ہمیں اپنے ارد گرد کے لوگوں کے ساتھ نرمی اور شفقت سے پیش آنا چاہیے، خاص طور پر ان لوگوں کے ساتھ جو مجبور اور بے بس ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی اس بات پر زور دیا ہے کہ ہمیں مجبور لوگوں سے خرید و فروخت نہیں کرنی چاہیے۔ یہ ایک اخلاقی اصول ہے جو ہمیں معاشرتی انصاف کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔
