حکمت (486): طلب باراں کی ایک دعا میں فرمایا: بارِ الہٰا! ہمیں فرمانبردار ابروں سے سیراب کر، نہ اُن ابروں سے جو سرکش اور منہ زور ہوں۔ یہ دعا امام علی علیہ السلام کی فصاحت و بلاغت کا ایک عمدہ نمونہ ہے۔ اس میں دو مختلف قسم کے بادلوں کی تشبیہ دی گئی ہے۔ ایک طرف وہ بادل ہیں جو کڑک، چمک اور طوفان کے ساتھ آتے ہیں، اور دوسری طرف وہ بادل ہیں جو نرم اور فرمانبردار ہیں۔
امام علی علیہ السلام نے ان بادلوں کو اونٹوں سے تشبیہ دی ہے۔ سرکش بادلوں کو ان اونٹوں کی طرح تصور کیا ہے جو اپنی من مانی کرتے ہیں، زمین پر پیر مارتے ہیں اور سواروں کو گرا دیتے ہیں۔ اس کے برعکس، فرمانبردار بادلوں کی تشبیہ ان اونٹنیوں سے دی گئی ہے جو نرم مزاج اور سوار کی مرضی کے مطابق چلتی ہیں۔ یہ تشبیہ انسانی زندگی میں نظم و ضبط کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔
یہ حکمت ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ ہمیں اپنی زندگی میں بھی ان چیزوں کا انتخاب کرنا چاہیے جو ہمارے لئے فائدہ مند ہوں۔ سرکش اور بے قابو چیزوں سے بچنا چاہیے اور ان چیزوں کی طلب کرنی چاہیے جو ہمیں سکون اور آرام فراہم کریں۔ یہ دعا دراصل ایک روحانی طلب بھی ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ سے ان چیزوں کی طلب کریں جو ہماری زندگی میں سکون اور برکت لائیں۔
اس دعا میں ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ امام علی علیہ السلام نے اللہ کی رحمت کی طلب کی ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہمیں ہمیشہ اللہ کی رحمت اور ہدایت کی طلب کرنی چاہیے، کیونکہ یہ ہی ہماری زندگی کی کامیابی کا راز ہے۔
